آپریشنز سے حل نہیں نکلا، دہشتگردی مزید بڑھ گئی، افغانستان سے مذاکرات شروع کرینگے: گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبرپی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ جتنے آپریشن ہوئے ہیں، کوئی حل نہیں نکلا، دہشتگردی مزید بڑھ گئی، ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہوں، افغانستان کی طرف سے مثبت جواب آیا ہے، وہ بھی مذاکرات چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بات چیت کی پیش کی، تنقید کی گئی، یہ وفاق کا مینڈیٹ ہے ہم نے ان سے بات کی ہے، اس ہفتے قبائل کے وفد کے نام وفاق کو بھجوادیے جائیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصوم جانوں کا نقصان کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی وفاق اور فوج کا مینڈینٹ ہے، مسئلے کا حل یہ نہیں ہے، مذکرات ہونے چاہییں۔ 27 تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کے حکم پر جلسہ کررہے ہیں، ہم بڑا جلسہ کرکے ثابت کریں گے کہ لوگ بانی کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، ہم اپنا حق حاصل کریں گے، ہماری اور بانی پی ٹی آئی کی پالیسی رہی ہے کہ مذاکرات ہی حل ہے۔ جتنے آپریشن ہوئے ہیں، کوئی حل نہیں نکلا، دہشتگردی مزید بڑھ گئی، ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہوں، افغانستان کی طرف سے مثبت جواب آیا ہے، وہ بھی مذاکرات چاہتے ہیں، وفاقی وزیر نے جو بات کی ہے، اس کا جو رویہ ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ ہماری قبائلی علاقوں کے لوگوں سے بات ہوئی ہے، ہم نام دینگے اور مذاکرات شروع کریں گے۔علی امین نے کیا کہ کرکٹ ایک اسپورٹس ہے اور لوگوں کو اس سے لگاؤ ہے، انڈیا ہمارا دشمن ہے، اس میچ کے لئے لوگ زیادہ خوش ہوتے ہیں، انڈیا کے خلاف میچ ہارنے سے لوگوں کو دکھ ہوتا ہے، ٹیم کو چاہیے کہ زور لگائے ہمت کریں، اور انڈیا سے جیتے، وفاقی حکومت نے تمام ادارے تباہ کردیے، کرکٹ کو بھی تباہ کیا، اب انڈیا سے میچ جیت نہیں سکتے۔ دہشتگری کے واقعات اس صوبے میں دہائیوں سے ہو رہے ہیں اور 80 ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے، دہشتگردی کے واقعات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، ہم یہی کہتے ہیں کہ مذاکرات ہونے چاہییں، تاکہ امن قائم ہو، جلسے میں بھی اسی پر بات کریں گے، لوگوں کی رائے لینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ