پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی سے متعلق آئی ایم ایف کی اور شرط پوری کرنے میں پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ بتدریج کم کرنے کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی ایک اور بڑی شرط پوری کرنے سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے حکومت اور بینکوں کے درمیان فنانسنگ کے معاہدے پر معاملات طے پاگئے ہیں۔
وزارت خزانہ ذرائع نے بتایا کہ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1275 ارب روپے قرض لینے کی وفاقی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے اور اب بینکوں کے ساتھ فنانسنگ کے معاملات طے پانے پر معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن ہیڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے کنٹری ڈائریکٹرز کو دعوت دی گئی ہے جبکہ چیئرمین نیپرا اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اعلی حکام کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے تقریب میں شرکت کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور دیگر حکام کو بھی مدعو کیا گیا ہے، تقریب کے لیے 18 بینکوں اور ڈسکوز سمیت دیگر حکام کو دعوت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق جولائی 2025 تک پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا حجم 1661 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا اور جون 2025 تک پاور سیکٹرکا سرکلر ڈیٹ 1614 ارب روپے تھا اور گردشی قرضے میں کمی کے لیے مرتب کردہ منصوبے کے تحت 1275 ارب روپے بینکوں سے حاصل کیے جائیں گے۔
حکام نے بتایا کہ پہلی بار گردشی قرض کے اسٹاک کو ایک سطح پر رکھنے کے پرانے طریقہ کار کے بجائے بینکوں کی مدد سے اسی کو بتدریج ختم کیا جائے گا، 1275 ارب روپے آئی پی پیز اور پاور ہولڈنگ کے قرضے کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، بینکوں سے حاصل شدہ 1275 ارب روپے کو آئندہ 6 سالوں میں ختم کیا جائے گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاور سیکٹر ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔