اسلام آباد:

وفاقی حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ بتدریج کم کرنے کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی ایک اور بڑی شرط پوری کرنے سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے حکومت اور بینکوں کے درمیان فنانسنگ کے معاہدے پر معاملات طے پاگئے ہیں۔

وزارت خزانہ ذرائع نے بتایا کہ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1275 ارب روپے قرض لینے کی وفاقی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے اور اب بینکوں کے ساتھ فنانسنگ کے معاملات طے پانے پر معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن ہیڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے کنٹری ڈائریکٹرز کو دعوت دی گئی ہے جبکہ چیئرمین نیپرا اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اعلی حکام کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے تقریب میں شرکت کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور دیگر حکام کو بھی مدعو کیا گیا ہے، تقریب کے لیے 18 بینکوں اور ڈسکوز سمیت دیگر حکام کو دعوت دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق جولائی 2025 تک پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا حجم 1661 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا اور جون 2025 تک پاور سیکٹرکا سرکلر ڈیٹ 1614 ارب روپے تھا اور گردشی قرضے میں کمی کے لیے مرتب کردہ منصوبے کے تحت 1275 ارب روپے بینکوں سے حاصل کیے جائیں گے۔

حکام نے بتایا کہ پہلی بار گردشی قرض کے اسٹاک کو ایک سطح پر رکھنے کے پرانے طریقہ کار کے بجائے بینکوں کی مدد سے اسی کو بتدریج ختم کیا جائے گا، 1275 ارب روپے آئی پی پیز اور پاور ہولڈنگ کے قرضے کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، بینکوں سے حاصل شدہ 1275 ارب روپے کو آئندہ 6 سالوں میں ختم کیا جائے گا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاور سیکٹر ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش