پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کا حامی ہوں، ہاتھ نہ ملا کر نفرت وہاں سے شروع ہوئی، شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی ہوں لیکن ہاتھ نہ ملا کر نفرت وہاں سے شروع ہوئی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی پہلی دفعہ جنگ تو نہیں ہوئی لیکن یہ نہیں سنا ہوگا کہ ہاتھ نہ ملائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی انڈیا کا منفی چہرہ دنیا کے سامنے دکھا رہا ہے۔
شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوانوں کو پلیٹ فارم نہ ملنے سے ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔
سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار ناگزیر ہے۔ شمالی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی سہولیات دینا ضروری ہے، ہر پاکستانی کو ملک کی ذمہ داری اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ مصیبت کسی صوبے یا شہر کی نہیں، ہم سب کے لیے ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ سوات اور باجوڑ کا دورہ کیا ہے، لوکل ایڈمنسٹریشن سے بات ہوئی ہے۔ وہاں راشن کی ضرورت نہیں لیکن میں ان کے لیے گھر بنانا چاہتا ہو۔چاہتا ہوں لوگ مچھلی پکڑنا سکھیں نا کے ہمیشہ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا انتظار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد آفریدی کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔