بینکاک؛ مصروف شاہراہ اچانک دھنسنے سے 160 فٹ گہرا گڑھا بن گیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کی ایک مصروف شاہراہ پر اچانک 160 فٹ گہرا اور 98 فٹ چوڑا گڑھا بن گیا، جس نے تین گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مذکورہ واقعہ 24 ستمبر کی بدھ کی صبح سام سین روڈ پر پیش آیا، جس سے ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی اور قریبی علاقے خالی کرالئے گئے۔
رائل تھائی پولیس کے مطابق یہ گڑھا صبح تقریباً 7 بجے ایک اسکول کے سامنے بنا، جو ایک اسپتال اور پولیس اسٹیشن کے نہایت قریب ہے۔ پولیس کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’واجیرا اسپتال، سام سین روڈ، دوسیت ڈسٹرکٹ، بینکاک کے قریب زمین 30 بائے 30 میٹر کے رقبے پر بیٹھ گئی، جس کی گہرائی 50 میٹر تک جاپہنچی۔ اس کے بعد دو بجلی کے کھمبے اور پولیس اسٹیشن کی کار بھی گڑھے میں جاگری۔‘‘
مقامی میڈیا کے مطابق اس حادثے سے قریبی سام سین میٹروپولیٹن پولیس اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دو بجلی کے کھمبوں اور ایک ٹو ٹرک سمیت تین گاڑیاں گڑھے میں دھنس گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح مصروف شاہراہ پر اچانک زمین دھنسنے سے گاڑیاں الٹی سمت بھاگنے لگیں۔
واقعے کے باعث واجیرا اسپتال اور قریبی گھروں کو خالی کرایا گیا۔ بینکاک کے گورنر چڈچارٹ ستیپنٹ کے مطابق گڑھا زیرِ زمین میٹرو اسٹیشن کی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث بنا ہے۔ مسلسل بارش اور خراب موسم کے باوجود خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے متاثرہ مقام کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جب کہ نیشنل پولیس کمشنر نے میٹروپولیٹن پولیس بیورو کو ہدایت دی ہے کہ بینکاک میٹروپولیٹن ایڈمنسٹریشن سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کیے جائیں، بڑی پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کی جائے اور عوام کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔