گردشی قرضہ بڑے وسائل کھا رہا تھا، اس پر قابو پانا بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
نیویارک: وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ ملکی وسائل کو کھا رہا تھا، اس سنگین مسئلے پر قابو پانا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے نیویارک میں گردشی قرضے کے خاتمے سے متعلق منصوبے کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گردشی قرضہ کئی برسوں سے بڑھتا جارہا تھا اور ملکی معیشت کے لیے مسلسل بوجھ بنتا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر توانائی کی قیادت میں قائم ٹاسک فورس نے انتھک محنت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے۔ وزیراعظم کے مطابق گردشی قرضے کے خاتمے کا یہ منصوبہ اجتماعی کوششوں اور مربوط حکمت عملی کا ثمر ہے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ بجلی کے شعبے میں لائن لاسز اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، تاہم حکومت اگلے مرحلے میں اس مسئلے پر بھرپور توجہ مرکوز کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں عالمی ادارے نے پاکستان کی اقتصادی بہتری کے اقدامات کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضہ نہ صرف معیشت کے لیے بھاری بوجھ بن گیا تھا بلکہ توانائی کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کر رہا تھا۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے کے ساتھ ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے، یہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ ہے، اور آئندہ چھ برسوں میں گردشی قرضے سے مکمل نجات حاصل کرلی جائے گی۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں، ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم کو عملی شکل دی گئی ہے، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور پاور سیکٹر مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہوسکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے کے شعبے میں نے کہا کہ رہا تھا کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔