data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر )چیئرمین ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ماڈل کالونی ظفر احمد خان، ٹاؤن میونسپل کمشنر ابراہیم عمرانی، ٹاؤن وائس چیئرمین فیصل باسط کی زیر صدارت ٹاؤن کونسل ماڈل کالونی کا 24 واں باقاعدہ اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے یوسی 7 وائس چیئرمین مفتی راؤ وقاص نے کیا۔ٹاؤن وائس چیئرمین فیصل باسط نے گزشتہ اجلاس کا مسودہ پیش کیا اور قراردادوں کی توثیق کروائی۔اراکین کی جانب سے پیش کردہ مذکورہ قراردادوں کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔جیسا کہ ٹاؤن کونسل ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ماڈل کالونی کے علم میں ہے کہ گھروں سے کچرا جمع کرنا اور پھر اس کچرے کو گاڑیوں کے ذریعے صاف کرنا سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے جو کہ سندھ حکومت کا ادارہ ہے مگر شرم کی بات ہے کہ گھروں سے کچرا نہیں اٹھایا جا رہا ہے اجلاس کے ایم سی چارجز لینے اور اس میں اضافے کے باوجود کچرا جمع نہ کرنے پر شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ بجلی کے میٹر کی تعداد کے حساب سے عملہ تعینات کیا جائے اور ساتھ ہی ٹاؤن کو بتایا جائے کہ کس جگہ کس یو سی میں سندھ سولڈ ویسٹ کا عملہ گھروں سے کچرا جمع کر رہا ہے اور گلیوں سڑکوں پر جھاڑو دینے کے لیے عملہ متعین کیا گیا اس کے لیے ٹاؤن کونسل سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ ماڈل زون کو ایک ہفتے کا ٹائم دیتی ہے ٹاؤن چیئرمین کو تحریری طور پر آگاہ کریں کہ ڈور ٹو ڈور کچرا ٹاؤن کی 8یوسیز میں کن گلیوں سے وصول کیا جا رہا ہے اور کن کن گلیوں اور سڑکوں پر جھاڑو دینے کا عملہ متعین کیا گیا ہے اور یہ بھی جھاڑو اور کچرا جمع کرنے کی فریکونسی کیا ہے۔جلاس میں منتخب اراکین جس میں یونین کمیٹیز کے وائس چیئرمین مفتی راؤ وقاص، بلیغ الدین، احمد سلمان کاشف، عبدالغفار عزیز، یوتھ ممبر مصعب بن خالد، اسپیشل ممبر حسین ذبیح اللہ، خواتین رکن ڈاکٹر حمیرہ معروف، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے افسران ایگزیکٹیو انجینئر عبدالقادر، اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر محمد خرم, سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے نمائندے اور ٹی ایم سی افسران ڈائریکٹر کونسل مہتاب جبار و دیگر محکمہ جاتی افسران بھی موجود تھے۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویسٹ مینجمنٹ بورڈ وائس چیئرمین ماڈل کالونی کچرا جمع ٹاو ن کو ہے اور

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود