جامعہ پشاور میں طلبہ دھرنا کامیاب: فیسوں میں کمی سمیت تمام مطالبات منظور
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-08-17
لاہور(صباح نیوز) ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، حسن بلال ہاشمی نے کہا ہے کہ جامعہ پشاور میں طلبہ کے حقوق کے لیے ہونے والا دھرنا تاریخی کامیابی ہے۔ فیسوں میں کمی، طلبہ سہولیات کی فراہمی اور دیگر مطالبات کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ جب طلبہ متحد ہو کر اپنی جائز آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی طاقت ان کے حقوق کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دراصل اسلامی جمعیت طلبہ کی اس مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے جو وہ دہائیوں سے تعلیمی اداروں میں کر رہی ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ طلبہ کو ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑا ہونا سکھایا اور ان کے جائز مسائل کو علمی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کے ذریعے حل کروایا۔ ناظمِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے نے پہلے ہی متوسط اور نچلے طبقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم کر رکھا ہے۔ آج کے معاشی بحران میں تعلیم کو مزید مہنگا کرنا نہ صرف طلبہ بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس تناظر میں جامعہ پشاور کے طلبہ کا یہ احتجاج اور اس کی کامیابی پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ طلبہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہیں۔ انہوں نے جامعہ پشاور کے تمام کارکنان، طلبہ اور عوامی حلقوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی بہتری کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان بھر کے طلبہ کو معیاری تعلیم، سستی فیسیں، ہاسٹل کی سہولیات، اور پرامن تعلیمی ماحول میسر ہو۔ حسن بلال ہاشمی نے حکومت اور جامعاتی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، کیونکہ یہ صرف طلبہ کا ہی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جمعیت طلبہ کے حقوق، تعلیمی اصلاحات اور بہتر ماحول کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔
اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخو ا کے ناظم اسفندر یار عزت پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پشاور کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔