data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-08-17

 

لاہور(صباح نیوز) ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، حسن بلال ہاشمی نے کہا ہے کہ جامعہ پشاور میں طلبہ کے حقوق کے لیے ہونے والا دھرنا تاریخی کامیابی ہے۔ فیسوں میں کمی، طلبہ سہولیات کی فراہمی اور دیگر مطالبات کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ جب طلبہ متحد ہو کر اپنی جائز آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی طاقت ان کے حقوق کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دراصل اسلامی جمعیت طلبہ کی اس مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے جو وہ دہائیوں سے تعلیمی اداروں میں کر رہی ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ طلبہ کو ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑا ہونا سکھایا اور ان کے جائز مسائل کو علمی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کے ذریعے حل کروایا۔ ناظمِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے نے پہلے ہی متوسط اور نچلے طبقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم کر رکھا ہے۔ آج کے معاشی بحران میں تعلیم کو مزید مہنگا کرنا نہ صرف طلبہ بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس تناظر میں جامعہ پشاور کے طلبہ کا یہ احتجاج اور اس کی کامیابی پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ طلبہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہیں۔ انہوں نے جامعہ پشاور کے تمام کارکنان، طلبہ اور عوامی حلقوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی بہتری کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان بھر کے طلبہ کو معیاری تعلیم، سستی فیسیں، ہاسٹل کی سہولیات، اور پرامن تعلیمی ماحول میسر ہو۔ حسن بلال ہاشمی نے حکومت اور جامعاتی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، کیونکہ یہ صرف طلبہ کا ہی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جمعیت طلبہ کے حقوق، تعلیمی اصلاحات اور بہتر ماحول کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخو ا کے ناظم اسفندر یار عزت پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

خبر ایجنسی گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پشاور کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن