Express News:
2026-07-24@09:45:21 GMT

تعصب کی عینک اتار کر دیکھو

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

منشیات کی خوفناک لعنت نے لمحہ موجود میں پوری دنیا خصوصاً پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ خصوصاً نسلِ نو اپنے درخشندہ و تاباں مستقبل سے بے پروا اس لعنت کے زہر کو اپنی رگوں میں اتارنے کے بعد ناسور بن کر اپنے ماں باپ اور اہل خاندان کی زندگیوں کے ساتھ پورے معاشرے کو جہنم بنا رہے  ہیں۔

نشے کی لعنت شہروں، دیہاتوں، گلی محلوں سے نکل کر ہمارے تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے اور بڑی تعداد میں مستقبل کے معمار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے حصار میں جکڑ چکی ہے۔ دوستوں میں کوئی ایک نشئی ہو تو باقی دوستوں کے بھی عادی ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔ ابتداء میں پرائیویٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے منشیات فروشی اور استعمال کی کوئی خبر آئی تھی‘ لیکن اب یہ تمیز ختم ہوچکی ہے۔

تعلیمی اداروں کا تعلق پبلک سیکٹر سے ہو یا پرائیویٹ سیکٹر سے، کوئی ادارہ اس لعنت سے محفوظ نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں اس حوالے سے چند حقائق بتائے تھے۔انھوں نے قومی اسمبلی میں انکشاف ہے کہ "پاکستانی تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے آخری سروے 12سال پہلے ہوا تھا۔" قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے انھوں نے بتایا کہا کہ "تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال سے متعلق حکومت کے پاس مستند ڈیٹا موجود نہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کی فراہمی اور استعمال کے متعلق تازہ معلومات محدود ہیں اور ملک میں منشیات کے استعمال سے متعلق کوئی جامع اور مستند ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

ملک میں منشیات سے متعلق آخری قومی سروے 2013 میں کیا گیا تھا، تاہم اس سروے میں تعلیمی اداروں کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا"۔ اس انکشاف کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر ایک نیا قومی سروے شروع کیا گیا ہے جو ملک میں منشیات کے استعمال کا مکمل جائزہ لے گا جو 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ سروے میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اندر منشیات کے رجحان کا جائزہ بھی شامل ہے، یہ سروے تعلیمی اداروں میں منشیات سے متعلق جامع اور مستند معلومات فراہم کرے گا، جس سے منشیات کی معلومات کو درست انداز میں ترتیب دے کر اس کا سدباب کرنے میں مدد ملے گی۔

قومی اسمبلی میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ "انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے پاکستان بھر کی 263 یونیورسٹیوں میں 269 آپریشنز کیے، جن کے دوران ایک ہزارچارسوستائیس(1427) کلوگرام منشیات ضبط اور 426 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم مؤثر پالیسی سازی کے لیے مستند ڈیٹا ناگزیر ہے۔"

شکر الحمدللہ دیر آید درست آید کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوچکا ہے مگر وزیر داخلہ کے اس انکشاف نے ان والدین کو جن کے بچے عصری تعلیم کے اداروں میں زیرتعلیم ہیں کو تشویش میں مبتلا کردیا یہ انکشاف والدین پر آسمانی بجلی گرنے سے کم نہیں کیونکہ جن اداروں میں منشیات کا دھندا اس لیول پر ہو وہاں تو زیر تعلیم ہر طالبعلم کے سر پر منشیات کی لعنت کی تلوار لٹک رہی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اب ہمارے تعلیمی ادارے اسکالرز اور پروفیسرز کے سحر اور اثر کی بجائے منشیات فروشوں کے نرغے میں ہیں، جن والدین نے اپنے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول اور ان درسگاہوں سے گریجویٹ، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالر بننے کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہو نے کے لیے بھیجے تھے وہ اب مضطرب ہیں کہ کہیں ان کے جگر گوشوں سے متعلق انکے خواب چکنا چور نہ ہوجائیں۔ خدا نخواستہ منشیات کی لت لگ گئی تو نہ صرف انکے لخت جگر بلکہ پورا خاندان تباہ وبرباد اور پورے معاشرے کے لیے ناسور بن جائے گا اور یہ لعنت ان کی زندگیوں کو تاریک و اندھیر اور ان کی جوانیوں کو کھوکھلا کر دے گا۔

تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی اور منشیات کے استعمال کے واقعات کئی سال سے وقفے وقفے سے منظر عام پر آرہے ہیں۔ مبینہ طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بعض ملازمین (عورتیں اور مرد) طالب علموں میں منشیات سپلائی کرتے ہیں یا ان اداروں سے ملحقہ بعض علاقوں میں منشیات کے عادی طلباء اور طالبات کو آسانی سے نشہ آور اشیاء دستیاب ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر طالب علموں میں سگریٹ نوشی تو عرصہ دراز سے ہوتی تھی مگر اب چرس، ہیروئین اور آئس جیسے نشہ آور اشیاء کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہوشربا تشویشناک اضافہ قومی المیہ ہے۔

ہاسٹلوں میں منشیات کی سپلائی ایک منافع بخش اور مقبول کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف ملازمین ہی اس مکروہ دھندے میں ملوث نہیں، بعض تعلیمی اداروں میں طلباء اور طالبات کے گروہ بھی اپنے عیش و عشرت کے لیے منشیات فروشی کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی اور طالب علموں میں منشیات کا کھلم کھلا استعمال نہایت افسوس ناک حقیقت ہے۔ ہیروئن، چرس، شیشہ، کوکین، شراب اور کرسٹل پاؤڈر (آئس) سمیت ہر قسم کا نشہ عام ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں حصول علم کے لیے جانے والے طلباء اور طالبات نشے میں دھت دندناتے پھریں گے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی طلباء و طالبات کا سلسلہ درس و تدریس کس قسم کے ماحول میں فروغ پا رہا ہے۔

قانونی اور آئینی طور پر تو انسداد منشیات کے ذمے داران کا فرض ہے کہ وہ ہر خاص و عام کو اس لعنت سے دور رکھیں اور منشیات فروشوں کو نشان عبرت بنائیں مگر تعلیمی اداروں میں تو منشیات فروش ہمارے مستقبل اور معماران ملک و ملت پر حملہ آور ہیں اس کے لیے تو ہنگامی بنیادوں پر خصوصی اور بے رحم فورس کا قیام عمل میں لانا چاہیے جو سختی سے کام لیتے ہوئے طلباء و طالبات کو منشیات کے استعمال سے روکیں، منشیات کے عادی افراد کا علاج کروائیں اور منشیات فروشوں کو تعلیمی اداروں کے اندر برسر عام عبرتناک سزائیں دیں۔

تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ خصوصی مہم چلا کر منشیات سے پاک ماحول کو یقینی بنائیں۔ بعض تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کے نمائندوں اور اساتذہ کی بھی پروا نہیں کی جاتی جب کہ ہاسٹلوں میں باقاعدگی سے منشیات کے استعمال کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ نشے کے عادی افراد شرم و حیا سے عاری ہوجاتے ہیں تو پھر ہاسٹل وارڈن اور اساتذہ سے حجاب بھی ختم ہوجاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ انفرادی سطح کے علاوہ سرکاری اداروں کے تعاون سے مشترکہ طور پر یہ مسئلہ حل اور سائنٹیفک بنیادوں پر منصوبہ بندی کر کے نوجوان طالب علموں کو منشیات کی لعنت سے بچاؤ کا قومی فریضہ انجام دیں۔

حکومت اگر تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہمارے معاشرے میں منشیات سمیت ہر جرم سے پاک دینی مدارس کا ماڈل موجود ہے، اس سے استفادہ کیا جائے۔ کراچی سے خیبر تک ہزاروں دینی مدارس موجود ہیں جن میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں، ان مدارس پر کالج اور یونیورسٹیوں کی طرح حکومت کے اربوں، کھربوں روپے بھی خرچ نہیں ہوتے،گزشتہ 78 برسوں سے یہ مدارس اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں، یہاں سے فارغ التحصیل علماء پوری دنیا میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور افعانستان میں مثالی حکومت چلا رہے ہیں، اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور قرآن و حدیث کی برکت سے آج تک کسی ایک مدرسے سے منشیات فروشی یا منشیات کے استعمال کی خبر نہیں آئی۔

اگرحکومت عصر ی تعلیم کے اداروں سے اس لعنت کوختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو ایک بار مدارس کے نظام کا جائزہ تعصب کی عینک اتار کر لیں اور مدارس کی طرح کردار سازی پر توجہ دینے والا پاکیزہ و معطر نظام تعلیم اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لے آئیں، منشیات ہی نہیں ایسی تمام لعنتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ مل جائے گا،جو نسل نوکی تباہی کا بن رہے ہیں، لیکن اس کے لیے شرط یہی ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر درد دل سے صورتحال کا جائزہ لے کر اقدامات کرنے ہونگے ورنہ عصری علوم کے ادارے منشیات فروشی اور جرائم کے اڈے بن جائیںگے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں منشیات میں منشیات کے استعمال منشیات فروشی اور اور یونیورسٹیوں قومی اسمبلی میں منشیات فروشوں طالب علموں اور منشیات منشیات کی سے منشیات اور طالب کیا گیا رہے ہیں

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ