data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے گردشی قرضے کے منصوبے کو اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گردشی قرض تمام وسائل نگل رہا تھا‘ مسئلے سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے، توانائی کے شعبے کے لائن لاسز بڑا چیلنج ہے، جبکہ  وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا گردشی قرضہ تقریباً 22.

4 کھرب تھا، جسے اب تک 800 ارب روپے کم کیا جا چکا ہے،آئندہ 6 سال میں گردشی قرضہ صفر تک پہنچانے کا ہدف ہے ادھر وزیر خزانہ کہا ہے کہ نے گردشی قرض کا حل توانائی شعبے کے دیرینہ مسائل کے حل میں بڑی پیش رفت ہے۔ تفصیلات کے مطابق شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے طے شدہ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے نیویارک سے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گردشی قرضہ مسلسل بڑھتا اور ہمارے وسائل نگلتا جارہا تھا، پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اس مسئلے کو کامیابی سے حل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرتوانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا  اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے، یہ پوری حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کی کامیابی ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، اس حوالے سے پنجاب بینک کے سربراہ ظفر مسعود اور گورنر اسٹیٹ بینک نے اہم کردار ادا کیا۔  انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے اہم ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی بہتری کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہا کہ میرے کانوں نے پہلی بار آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے تعریف سنی ہے، سربراہ آئی ایم ایف نے سیلاب کے حوالے سے تعاون کرنے کی بھی یقینی دہانی کرائی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر اسی طرح سے چلیں گے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی، اس کامیابی کا کریڈٹ ٹیم پاکستان کوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کی نجکاری اگلا مرحلہ ہے، ڈسٹری بیوشن لائنز اور لائن لاسز بڑے چیلنجز ہیں، اس حوالے سے بڑے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کے آغاز پر پاکستان کا گردشی قرضہ تقریباً 22.4 کھرب روپے تھا، جسے اب تک 800 ارب روپے کم کیا جا چکا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے گردشی قرضے میں کمی کے لیے جاری اقدامات پر وڈیو پیغام دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج 1225 ارب روپے کے گردشی قرضے میں کمی کی نئی اسکیم پر دستخط کیے جا رہے ہیں، جس سے مزید قرضے کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر توانائی نے واضح کیا کہ صارفین ہر یونٹ بجلی پر تقریباً ساڑھے 3 روپے ڈیٹ سروس سرچارج ادا کرتے رہے ہیں، جس کا صرف سود کی ادائیگی میں استعمال ہوتا تھا اور اصل قرض باقی رہتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت اب ڈیٹ سروس سرچارج سود کے علاوہ اصل قرض کی ادائیگی میں بھی استعمال کیا جائے گا، جس سے آئندہ 6 سال میں گردشی قرضہ صفر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔ مزید برآں اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبہ کے 1225 ارب روپے گردشی قرضہ کاحل مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے توانائی شعبے کے دیرینہ ترین مسائل میں سے ایک کے حل میں ایک بڑی پیشرفت ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک گوہر ایوب

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر توانائی ا ئی ایم ایف کہا ہے کہ نے کہا کہ ارب روپے انہوں نے کیا جا

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ