WE News:
2026-06-02@23:08:26 GMT

انکم ٹیکس گوشواروں میں نیا کالم شامل، شہری تشویش کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

انکم ٹیکس گوشواروں میں نیا کالم شامل، شہری تشویش کا شکار

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشواروں میں نیا کالم شامل کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے لیے اپنے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قراردے دیا جس کے باعث شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 میں کوئی نئی ترمیم نہیں کی گئی، ایف بی آر

مذکورہ کالم کے اضافے کی وجہ سے خصوصاً وہ سفید پوش افراد زیادہ پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کے پاس قیمتی وراثتی اثاثے تو موجود ہیں لیکن ان کی اپنی آمدنی محدود ہے۔

اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف-6 میں رہائش پذیر محمد زبیر نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کا گھر 2 کنال کا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو اس وقت تقریباً ڈیڑھ ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ہر سال پابندی سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتا ہوں تاہم میرے وکیل نے بتایا کہ اس مرتبہ سے ایف بی آر نے  اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنے کی شرط بھی عائد کردی ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ یہ گھر میرے والد مرحوم ایک ریٹائرڈ سیکریٹری تھے اور انہوں نے سنہ 1982 میں یہ گھر تعمیر کروایا تھا جبکہ میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور میری آمدنی اتنی نہیں کہ اس مالیت کے حساب سے ٹیکس ادا کر سکوں۔

مزید پڑھیے: نئے ٹیکس قوانین: کیا پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ حاصل ہوگی؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ گھر ہمیں وراثت میں ملا اور ہمیں پیارا بھی ہے لیکن اس کی بڑھتی قیمت میرے لیے وبال بن گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورت حال سے نہ صرف وہ خود بلکہ ان جیسے کئی شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں جو قیمتی وراثتی گھروں کے تو مالک ہیں لیکن ان کی آمدنی محدود ہے۔

محمد زبیر کہتے ہیں کہ مجبوری یہ ہے کہ یہ گھر ہمیں وراثت میں ملا ہے اور اس سے ایسی انسیت ہے کہ اسے فروخت بھی نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 26-2025: آن لائن کاروبار اور امپورٹڈ اشیا پر نئے ٹیکسز سے چھوٹے تاجر پریشان

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے میں نئے کالم سے متعلق وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نئے کالم کا مقصد صرف مستند ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے جبکہ نیا کالم 18 اگست کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے سالانہ اضافے کی تفصیلات دینی ہوں گی۔

اس کالم کے لیے کوئی نیا ایس آر او جاری نہیں کیا گیا جبکہ اس کالم کا انکم ٹیکس کے تعین سے کوئی تعلق نہیں اثاثوں کی مالیت ظاہر کرنے سے کسی ٹیکس دہندہ کے خلاف اس بنیاد پر کارروائی نہیں ہو گی جبکہ جو افراد اس سال کے گوشوارے پہلے ہی جمع کر چکے ہیں انہیں دوبارہ جمع کروانے ہوں گے۔

ایف بی آر نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنے کا عمل صرف ڈیٹا کے تجزیے اور شفافیت کے لیے ہے اور اس سے براہ راست ٹیکس بوجھ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی، ایف بی آر نے گوشواروں کا نیا فارم جاری کیا

ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ اقدام لوگوں کے لیے الجھن پیدا کر رہا ہے لیکن اگر ایف بی آر اپنی وضاحت پر قائم رہا تو ٹیکس دہندگان کے لیے یہ اقدام محض ایک ریگولیٹری تقاضا ہوگا نہ کہ ٹیکس بڑھنے کا سبب۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اثاثوں کی مالیت انکم ٹیکس انکم ٹیکس گوشوارے ٹیکس گوشواروں کا نیا کالم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اثاثوں کی مالیت انکم ٹیکس انکم ٹیکس گوشوارے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر انکم ٹیکس ایف بی آر نیا کالم یہ گھر کے لیے

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق