دشت دھماکے کے بعد متاثرہ ٹریک کی مرمت مکمل، جعفر ایکسپریس سمیت بلوچستان میں ٹرین سروسز بحال
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کی سروسز بحال ہو گئی ہیں۔ مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک کی مرمت مکمل ہونے کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت معمول پر آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مستونگ: ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
23 ستمبر کو دشت کے قریب دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں، جس کے بعد صوبے میں ریل سروس معطل ہو گئی تھی۔ اس واقعے میں کئی مسافر زخمی ہوئے تھے اور ابتدائی تحقیقات میں اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا گیا تھا۔
ریلوے حکام کے مطابق مرمت کا کام صرف 5 دن میں مکمل کیا گیا اور اب جعفر ایکسپریس سمیت تمام اہم ٹرینیں شیڈول کے مطابق روانہ ہو رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اور کوئٹہ کا ریلوے رابطہ منقطع، جعفر ایکسپریس 3 روز کے لیے معطل
آج کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس مقررہ وقت پر روانہ ہوئی جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس بھی شیڈول کے مطابق چل پڑی ہے، اسی طرح کراچی سے کوئٹہ پہنچنے والی بولان میل بھی آج صبح روانہ ہو گئی۔
ریلوے انتظامیہ نے کہا ہے کہ ٹرین سروس کی بحالی بلوچستان کے لیے اہم پیش رفت ہے جس سے مسافروں اور تاجروں کو بلا تعطل سفر اور سامان کی ترسیل کی سہولت میسر ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بولان ایکسپریس جعفر ایکسپریس دشت دھماکہ ریلوے ٹریک کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بولان ایکسپریس جعفر ایکسپریس دھماکہ ریلوے ٹریک کوئٹہ جعفر ایکسپریس کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔