مشرقِ وسطیٰ میں ’عظمت کے حقیقی امکانات موجود‘ ہیں، امریکی صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ترقی کے لیے ’عظمت کے حقیقی امکانات موجود ہیں‘ اور پہلی بار تمام فریقین کسی خاص مقصد کے لیے یکجا ہیں۔
ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اکثریتی مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی کثیرالجہتی ملاقات کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا: ’ہم اسے مکمل کرلیں گے۔‘
ملاقات میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنما شریک تھے، جس میں بنیادی طور پر غزہ تنازع اور امن کوششوں پر غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: شہباز شریف کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات، بھارتی شہری اپنے وزیراعظم مودی پر پھٹ پڑے
ٹرمپ نے اس موقع پر 21 نکاتی منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے کو نئی حکمرانی کے تحت بحال کرنا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔ ٹرمپ اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے الگ ملاقات کریں گے تاکہ ان تجاویز پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 66 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مسلسل بمباری نے غزہ کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے جبکہ بھوک اور بیماریوں میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔