امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ترقی کے لیے ’عظمت کے حقیقی امکانات موجود ہیں‘ اور پہلی بار تمام فریقین کسی خاص مقصد کے لیے یکجا ہیں۔

ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اکثریتی مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی کثیرالجہتی ملاقات کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا: ’ہم اسے مکمل کرلیں گے۔‘

ملاقات میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنما شریک تھے، جس میں بنیادی طور پر غزہ تنازع اور امن کوششوں پر غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات، بھارتی شہری اپنے وزیراعظم مودی پر پھٹ پڑے

ٹرمپ نے اس موقع پر 21 نکاتی منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے کو نئی حکمرانی کے تحت بحال کرنا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔ ٹرمپ اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے الگ ملاقات کریں گے تاکہ ان تجاویز پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 66 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مسلسل بمباری نے غزہ کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے جبکہ بھوک اور بیماریوں میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان امریکی صدر

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے