عدنان سمیع کو بھارتی ہوٹل میں مشکل کا سامنا، سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
گلوکار عدنان سمیع نے بھارت کے حیدرآباد کے ایک پریمیئم ہوٹل میں بنیادی سہولیات نہ ملنے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سماجی میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ہوٹل کے صدارتی سوئٹ کے باتھ روم میں پانی کی سہولت منقطع ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنے پیغام میں عدنان سمیع نے کہا کہ یہ ایک پریمیئم ہوٹل میں ناقابل معافی عمل ہے کہ مہمانوں کو پانی جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں نہ صرف مہمانوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ ہوٹل کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
عدنان سمیع نے تاج کرشنا ہوٹل کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں فوری حل اور شفافیت ناگزیر تھی، مگر انتظامیہ کی طرف سے صرف یہ کہا گیا کہ یہ مسئلہ مینٹینس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جبکہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ سہولت کب تک بحال ہوگی۔
گلوکار کی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ہوٹل انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کچھ صارفین نے ہوٹل کے معیار پر سوال اٹھائے تو کچھ نے عدنان سمیع کو پانی کی بالٹی پہلے سے بھر کر رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :