مفتی منیب الرحمن کا سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی عدل و انصاف کے نفاذ پر زور
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: معروف عالم دین و اسکالر مفتی منیب الرحمن کاکہنا ہے کہ عوام حکمرانوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں کس کے تابع ہیں اور قانون کس کی مرضی سے بناتے ہیں، قادیانیوں کو پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا جس میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، انہیں وہی حقوق دیے جائیں جو دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں۔
نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی میں جماعت اسلامی ضلع وسطی کے زیر اہتمام منعقدہ سیرت النبیؐ کانفرنس بعنوان عہد رسالت میں انسانی حقوق، آزادی اور انصاف آج کے تقاضے سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028ء تک سودی نظام کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی بلکہ حکومت عالمی بینک سے 20 سالہ سودی قرض کے معاہدے میں مصروف ہے، اس سے حکومت کی نیت کے خلوص کے آثار نظر نہیں آتے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےنائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف درس و تبلیغ کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ آپؐ کا مشن باطل نظام کو بدل کر اسلام کا عادلانہ نظام قائم کرنا تھا اور آج جماعت اسلامی اسی مقصد کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں رائج نظام ظالمانہ اور استحصالی ہے، عوام کی رائے کو کچلا جا رہا ہے، میڈیا اور عدالتیں آزاد نہیں ہیں، حالیہ پاک سعودی معاہدے اور ابراہام اکارڈ میں کیا تعلق ہے، یہ بات ابھی واضح نہیں۔
امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ نے کہا کہ اسلام میں حقوق سے زیادہ فرائض پر زور دیا گیا ہے، نفاذ شریعت کا مطالبہ اسی جذبے سے کیا جائے جس طرح تحریک ختم نبوت کے وقت کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر بچہ پیدائش کے وقت ہی سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہوتا ہے جو نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔
امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی سید وجیہہ حسن نے کہا کہ ملک میں نظام انصاف کا یہ حال ہے کہ ججز خود انصاف کی دہائی دے رہے ہیں، عوام کا حال اس سے بھی بدتر ہے۔ خاص لوگوں کے لیے عدالتیں رات کو کھل جاتی ہیں جبکہ عوامی مسائل کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دس کروڑ مفلس بھوکے سوتے ہیں، عوام کی اکثریت کا گزارہ مشکل ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
فوٹو: اسکرین گریب۔جیو نیوزچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
اسکردو میں پی پی پی کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جی بی کے اضلاع میں جتنا میں آیا ہوں اتنا کوئی اور سیاستدان نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں خامنہ ای کو شہید کیا گیا، ان حالات میں یہاں انتخابی مہم چلانا مناسب نہیں سمجھا۔
پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔ امن کوششیں کامیاب ہونا ضروری ہے، ایران کے ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت ہے، یہ کیسی معاشی پالیسی اور ترقی ہے کہ امیر، امیر تر ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اسلام آباد کا وہ واحد ادارہ ہے، جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی، بجٹ میں وزیراعظم بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایٹم بم ذوالفقار بھٹو اور میزائل ٹیکنالوجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دی، جی بی کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، جی بی کو نام صدر زرداری نے دیا۔