امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بڑئ اعلانات کیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں قیام امن کے لیے میرے 20 نکاتی امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کردی۔

20 نکاتی امن منصوبے پر اتفاق؛ نیتن یاہو کا شکریہ 

صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ جنگ بندی کے لیے میری تجویز کو غور سے سنا اور اتفاق کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر حماس بھی اس 20 نکاتی منصوبے کو قبول کرلیتی ہے تو تمام اسرائیلی یرغمالی رہا ہوجائیں گے۔

امریکی صدر کی حماس کو دھمکی 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ حماس ایسا کرنے کو تیار ہے لیکن انھیں ایسا کرنے میں 72 گھنٹے سے زیادہ کا وقت نہیں لگنا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے یہ تجویز نہ مانی تو اسرائیل کے پاس ملٹری طاقت استعمال کرنے کا پورا حق ہوگا اور امریکا اس کی مدد کرے گا۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر تمام اسرائیلی یرغمالی رہا ہوگئے تو فوراً ہی غزہ جنگ خود بخود اور فوراً ہی ختم ہوجائے گی۔

عرب دنیا غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کا ایک نیا عبوری انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا اور تمام فریقین اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک متفقہ ٹائم لائن طے کریں گے۔

ٹرمہ بورڈ آف پیس کے سربراہ ہوں گے 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی بحالی اور نگرانی کے لیے نیا بین الاقوامی ادارہ "بورڈ آف پیس" بنایا جائے گا جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر شخصیات شامل ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ادارہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فریم ورک تیار کرے گا اور فنڈنگ کا انتظام سنبھالے گا، جب تک فلسطینی اتھارٹی اصلاحاتی پروگرام مکمل نہیں کر لیتی۔ نیا حکومتی ڈھانچہ فلسطینیوں اور عالمی ماہرین پر مشتمل ہوگا۔

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور نگرانی کے لیے قائم کیے جانے والے عبوری "بورڈ آف پیس" کے سربراہی کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ عرب دنیا اور اسرائیل سمیت تمام فریقین نے ان سے یہ ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی۔

امریکی صدر کے بقول: یقین کریں، میں بہت مصروف ہوں، لیکن پھر بھی میں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ معاہدہ غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ابراہام معاہدوں میں ایران بھی شامل ہوگا

امریکی صدر نے ابراہیم معاہدوں کو خطے میں امن کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 2020 میں طے پانے والے ابراہیم معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ نے کہا نیتن یاہو نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل