فرانسیسی وزیراعظم پر جعلی ڈگری کا الزام، سرکاری ملازمین نے مقدمہ دائر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: فرانسیسی وزیراعظم سباستیان لیکورنو ایک نئے تنازع کا شکار ہوگئے ہیں، ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ماسٹرز ان لاء مکمل کرنے کا غلط دعویٰ کیا، اس معاملے پر وزارت تعلیم کے سرکاری ملازمین کی قومی یونین (SNAPEN) نے ان کے خلاف باضابطہ طور پر عدالت میں شکایت درج کرا دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق یونین کے سربراہ جیرار لینفانٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ فرانسیسی وزیراعظم کے خلاف عدالتِ انصافِ جمہوریہ میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ڈگری کے بارے میں گمراہ کن دعویٰ کیا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے تاثر دیا کہ وہ پبلک لا میں ماسٹرز کے حامل ہیں حالانکہ یہ ڈگری انہوں نے مکمل نہیں کی۔
خیال رہےکہ فرانسیسی جریدے میڈیا پارٹ نے 19 ستمبر کو انکشاف کیا تھا کہ لیکورنو نے دو سالہ ماسٹرز ڈگری مکمل نہیں کی، باوجود اس کے کہ ان کے سرکاری اور آن لائن پروفائلز میں 2016 سے یہ دعویٰ درج ہے۔
ان پروفائلز میں وزارت دفاع کی ویب سائٹ، لنکڈ اِن اور ایک یونیورسٹی کانفرنس کی بائیو شامل ہیں۔
اس الزام پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم نے لے پاریسیئن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے قانون کی تعلیم کا پہلا سال مکمل کیا تھا، جسے ماسٹر 1 کہا جاتا ہے، میں نے اپنی قانون کی تعلیم مکمل کی ہے، یعنی ماسٹر 1 یہ ایک گھڑی ہوئی تنازع ہے جس میں مجھے سماجی تعصب کی بو آ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔