دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے — افواج کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا اور اس جدوجہد میں فورسز، پولیس کے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ برطانیہ میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نے جو سبق دیا وہ بھارت اور عالمی برادری نے دیکھا، پاک فوج نے مؤثر قیادت کا مظاہرہ کیا اور روایتی جنگ لڑ کر اپنا موقف ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور سیلابی صورتحال مشکلات پیدا کر چکی ہیں، مگر حوصلے بلند ہیں اور اللہ کے بھروسے ہم تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ وزیراعظم نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں بھی بتایا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس میں بعض اعلیٰ امریکی عہدیداران بھی موجود تھے، جہاں پاک و ہند جنگ بندی اور امن کی کوششوں کی حمایت کا ذکر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔