سندھ حکومت کا ترقیاتی اسکیموں پر کام روکنے کا معاملہ، ایم کیو ایم وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھائے گی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے پی آئی ڈی سی ایل کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام روکنے کی ہدایت پر سخت احتجاجی حکمت عملی اختیار کی ہے اور قومی اسمبلی میں احتجاج سمیت تمام فورمز پر اٹھانے اور قانونی آپشن اختیار کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی ادارے پاکستان انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کو خط لکھ کر کراچی سمیت صوبے بھر میں ترقیاتی اسکیموں پر کام روکنے کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اگر وفاقی حکومت نے اس معاملے پر سندھ حکومت سے رابطہ نہیں کیا اور پی آئی ڈی سی ایل کی ترقیاتی اسکمیوں پر کام بحال نہ کرایا تو ایم کیو ایم پاکستان اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق نے ٹیلی فون پر بتایا کہ اس معاملے پر پارٹی وفد نے وزیر ہاسنگ ریاض پیرزادہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور اس معاملے پر اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا۔ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے پی آئی ڈی سی ایل کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام روکنے کی ہدایت پر سخت احتجاجی حکمت عملی اختیار کی ہے اور قومی اسمبلی میں احتجاج سمیت تمام فورمز پر اٹھانے اور قانونی آپشن اختیار کیا جائے گا۔ اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کا وفد ان سے شیڈول کے تحت ملاقات کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان اس معاملے پر پر کام روکنے سندھ حکومت اختیار کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔