کنٹینٹ ہٹانے کا معاملہ، بھارتی حکومت اور ایلون مسک کے درمیان قانونی کشمکش میں شدت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور بھارتی حکومت کے درمیان کنٹینٹ ہٹانے کے معاملے پر قانونی کشمکش شدت اختیار کرگئی ہے۔
بھارتی عدالت نے نئی دہلی کے متعارف کردہ نئے کنٹینٹ ریموول نظام کے خلاف ایکس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملک میں کام کرنے والے ہر پلیٹ فارم کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی اظہار ذمہ داری کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے حکومت کے احکامات کے مطابق غیر قانونی یا متنازعہ مواد ہٹایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں سرکردہ صحافیوں سمیت متعدد پاکستانیوں کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی
عدالت کے اس فیصلے پر ایکس نے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا حکومتی میکانزم کسی قانونی بنیاد پر قائم نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور بھارتی شہریوں کے بنیادی حقِ آزادی اظہار کو متاثر کرتا ہے۔
کمپنی نے مؤقف اپنایا کہ وہ بھارتی قوانین کا احترام کرتی ہے لیکن اس بات سے اختلاف رکھتی ہے کہ چونکہ اس کی رجسٹریشن بھارت کے باہر ہے اس لیے اسے اس نظام پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ بھی پرھیں: لاکھوں ڈالر جرمانے کی ادائیگی کے بعد سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر پابندی ختم
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ نیا نظام غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے اور آن لائن احتساب کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ حکومت نے 2023 سے انٹرنیٹ پر نگرانی کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت کئی سرکاری اہلکار اب براہِ راست کمپنیوں کو ہٹانے کے احکامات دے سکتے ہیں۔
ایکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارتی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا تاکہ بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایکس ایلون مسک بھارت قانونی جنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس ایلون مسک بھارت
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔