مودی نے کرکٹ کو بھی نفرت کا میدان بنا دیا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھارت کی جانب سے کھیل کو سیاست میں گھسیٹنے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی نے کرکٹ جیسے عظیم کھیل کی روح اور اس کی اسپورٹس مین شپ کو اپنی گندی سیاست کے لیے تباہ کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مودی کرکٹ کلچر اور برصغیر میں امن کے امکانات کو دفن کر رہا ہے تاکہ اپنی سیاسی دکان چمکا سکے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ عزت اس طرح بحال نہیں ہوتی، پاک بھارت جنگ کا اسکور 6-0 پتھر پر کندہ ہو چکا ہے۔
وزیردفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، لیکن دنیا نے مودی کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے، جو بھارت کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بن چکا ہے۔
خواجہ آصف نے ایشیا کپ 2025 کے دوران بھارتی ٹیم کے متعصبانہ رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے نہ صرف پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا بلکہ فائنل سے قبل کپتانوں کی روایتی تصویر بھی نہ بنوائی۔
فائنل میچ کے بعد بھارتی بورڈ کے اشارے پر بھارتی ٹیم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کر دیا، جس کے باعث دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں اختتامی تقریب تاخیر کا شکار ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔