جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس، کراچی بار نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
کراچی بار ایسوسی ایشن نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری جعلی قرار دینے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن نے 25 ستمبر کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔
اپیل میں ایچ ای سی، یونیورسٹی آف کراچی ان فیئر مینز کمیٹی، سنڈیکیٹ کمیٹی و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنا عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری خط لکھنے والے ججز میں شامل رہے، جبکہ وہ الیکشن ٹربیونل اسلام آباد میں بھی رہے، بغیر سنے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری منسوخ کردی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 32 سال بعد ڈگری کا معاملہ یونیورسٹی نے کیوں اٹھایا وجہ بیان نہیں کی گئی لہذا سپریم کورٹ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس طارق جہانگیری کے فیصلے کورٹ کے گیا ہے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔