سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو معطل کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی فرائض سرانجام دینے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے جسٹس جہانگیری کی اپیل پر سماعت کے دوران دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جعلی ڈگری کے الزام کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس تو کیس صرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے عبوری حکم کی حد تک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ کسی جج کو جوڈیشل ورک سے روکا نہیں جا سکتا۔

مزید کہا کہ حال ہی میں ان کا فیصلہ موجود ہے کہ ’ایک جج کے خلاف دوسرے جج کے ذریعے رِٹ جاری نہیں ہو سکتی۔‘

مزید پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ، جامعہ کراچی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

جسٹس طارق جہانگیری کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔

تاہم جسٹس جمال مندوخیل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے حقائق مختلف تھے جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔

اسی دوران جسٹس شاہد بلال نے ریمارکس دیے کہ اس سوال پر دونوں طرف کے فریقین کے وکلا تیاری کرکے آئیں۔

مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: جسٹس جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس جہانگیری کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات موجود تھے، لیکن اس کے باوجود رٹ پٹیشن پر نمبر لگا دیا گیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل آفس اور درخواست گزار میاں داود کو بھی نوٹس جاری کیے۔

ساتھ ہی واضح کیا کہ اس مرحلے پر سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ صرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے عبوری حکم کی حد تک ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کے بعد نیا روسٹر جاری، وکلا کی جزوی ہڑتال

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حال ہی میں اپنے حکم میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روک دیا تھا، جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

اس دوران سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی جسٹس جہانگیری سے متعلق معاملات پر غور کے لیے 18 اکتوبر کو اجلاس طلب کر رکھا ہے، جو اس مقدمے میں آئندہ پیش رفت کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائیکورٹ جہانگیری کو عدالتی جسٹس جہانگیری سپریم کورٹ کورٹ کے کہا کہ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ