data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی اگلی قسط ایک ارب ڈالر کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزہ مشن نے وزارت خزانہ میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم سے تفصیلی ملاقات کی ہے، جس میں ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے دوسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات
ہوئے۔فریقین کے درمیان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد اور پاکستان کی حالیہ اقتصادی کارکردگی کے اعداد و شمار پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مذاکرات کے دوران محصولات میں اضافے، اخراجات میں نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستانی حکام سے انسداد منی لانڈرنگ اقدامات سے متعلق پیشرفت پر رپورٹ طلب کی ہے۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن رسک اسسمنٹ رپورٹ پرپیشرفت رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف وفد کو کرپشن کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات اور صوبائی سطح پر اینٹی منی لانڈرنگ انفورسمنٹ ایجنسیز کے قیام پر بریفنگ دی جائے گی۔ علاوہ ازیں گریڈ 17سے 22تک کے افسران کے اثاثے ڈکلیئرکرنے سے متعلق قانون سازی، صوبائی افسران کے اثاثوں کے گوشواروں تک رسائی کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کو نیشنل فسکل پیکٹ پر عمل درآمد میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ شفافیت کے لیے اقدامات سے بھی آگاہی دی جائے گی۔ آئی ایم ایف کو کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ اور آؤٹ لک پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کوگورننس اینڈکرپشن رسک اسسمنٹ رپورٹ میں تاخیر سے بھی آگاہ کرے گی۔ پاکستان آئی ایم ایف کے زیادہ تر اہداف پورے کر چکا ہے۔ اب پہلے تکنیکی اور پھر پالیسی مذاکرات ہوں گے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی پر بھی بحث کی جائے گی۔توقع ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی پربورڈ کی منظوری سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایک ارب ڈالر ا ئی ایم ایف جائے گی کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم