ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، آزاد حکومت اپنی رٹ قائم کرے، وزیر امور کشمیر امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر انجینیئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے احتجاج کی کال یکسر مسترد کردی ہے۔ عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی بجائے ایکشن کمیٹی بات چیت کرے جائز مطالبات حل کرنے کے لیے تیارہیں۔
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام نے بتایا کہ ہم مظفرآباد گئے اور وہاں جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔ ’ہم نے ساری رات بیٹھ کر بات چیت کی اور جو مطالبات قابلِ قبول ہیں انہیں تسلیم کر لیا گیا۔‘
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال، مسلم کانفرنس کے امن مارچ پر فائرنگ سے 11 افراد زخمی
انہوں نے کہاکہ کشمیر کاز میں ایک بار پھر سے جان میں جان آئی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ امن برقرار رکھا جائے اور عوام کے جائز مطالبات مانے جائیں۔
امیر مقام نے کہاکہ کشمیری عوام کو گندم اور آٹا سستا فراہم کرنے کو ترجیح دی گئی ہے اور کشمیری عوام کی دل سے عزت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مجموعی طور پر 38 نئے مطالبات سامنے لائے، جنہیں حکومت نے بیٹھ کر تسلی سے سنا جو مطالبات ماننے چاہیے انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کشمیر کاز سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ لاک ڈاؤن اور ٹریفک بند رکھنے سے بھی براہِ راست نقصان کشمیری عوام کو ہی پہنچ رہا ہے۔
امیر مقام نے کہاکہ بھارتی چینلز کی جانب سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ہم آج بھی بات چیت سے مسئلہ حل کرانے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے رٹ قائم رکھے۔
یہ بھی پڑھیں: پرامن شہریوں پر حملے اور پرتشدد احتجاج، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ سامنے آگیا
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آج سے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کردی ہے۔ اور اعلان کیا ہے کہ کل پلان بی کا اعلان کیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آزاد کشمیر اسمبلی امیر مقام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات ہڑتال وزیر امور کشمیر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر اسمبلی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات ہڑتال وی نیوز ایکشن کمیٹی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔