برسلز: یورپی یونین کی جانب سے افریقا میں توانائی کے منصوبوں پرساڑھے 54 کروڑ یورو کا اعلان کردیاگیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یورپی یونین نے افریقا میں توانائی کے جدید منصوبوں کے لیے ساڑھے 54 کروڑ یورو کا اعلان کردیا ہے۔ مزکورہ حوالے سے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد بجلی تک رسائی میں اضافہ، علاقائی بجلی گرڈز کو مضبوط بنانا اور براعظم کی گرین انرجی پر منتقلی کو تیز کرنا ہے۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے گلوبل سٹیزن فیسٹیول میں وڈیو پیغام میں پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افریقا جو فیصلے کر رہا ہے وہ پوری دنیا کے مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا تھاکہ براعظم کو ماحول دوست توانائی کی منتقلی روزگار، استحکام، ترقی اور عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول کو ممکن بنائے گی۔ یورپی کمیشن نے بھی مذکورہ حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ افریقا میں قابل تجدید توانائی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن براعظم کے تقریباً 60 کروڑ افراد اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ مذکورہ مالی پیکیج آئیوری کوسٹ، کیمرون، کانگو جمہوریہ، لیسوتھو، گھانا، وسطی افریقی جمہوریہ، مڈغاسکر، موزمبیق اور صومالیہ میں توانائی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: میں توانائی افریقا میں کا اعلان

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ