رواں مالی سال پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح 3فیصد رہنے، مہنگائی میں اضافے کا امکان، اے ڈی بی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے رواں مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے اور مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں اے ڈی بی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات میں نمایاں پیش رفت ہوئی تاہم مستقل اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل درآمد ضروری ہے، پاک امریکا تجارتی معاہدے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
اے ڈی بی کے مطابق حالیہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا، تعمیراتی شعبے کے لیے بجٹ 2026 میں مراعات بحالی میں مددگار ہوں گیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے مالی سال 2026 میں مہنگائی 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع بھی کی ہے مہنگائی میں اضافے کی وجوہات سپلائی چین متاثر اور گیس ٹیرف میں اضافہ ہے۔
اے ڈی بی نے رپورٹ میں تجویز دی کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی قابو میں رکھنے کے لیے محتاط پالیسی اپنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔