WE News:
2026-07-24@05:54:06 GMT

ٹرینوں کا اوپن آکشن: نجکاری یا تجارتی حکمت عملی؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

پاکستان ریلوے کی 9 ٹرینوں کی نجکاری کا ابتدائی فیصلہ اب اوپن آکشن کے تحت نیلامی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریلوے کی یورپ اور وسطی ایشیا تک رسائی کیسے ممکن ہوگی؟ حنیف عباسی نے بتادیا

حکام کے مطابق یہ اقدام ریلوے کے کمرشل آپریشنز کو مزید شفاف، منافع بخش اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت فعال بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ تاہم دوسری جانب راولپنڈی سے اسلام آباد تک نئی ٹرین سمیت دیگر نئی ٹرینیں چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وی نیوز نے پاکستان ریلویز سے رابطہ کیا ریلوے ذرائع کے مطابق اس وقت ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو اوپن آکشن کی حتمی شرائط اور طریقہ کار طے کرے گی۔ ممکنہ طور پر اگلے ایک یا 2 ہفتوں میں نیلامی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

ترجمان پاکستان ریلوے بابر رضا نے وی نیوز کو بتایا کہ یہ ریلوے یا ٹرینوں کی ایسی نجکاری نہیں ہونے جا رہی جیسا کہا جا رہا ہے بلکہ صرف کمرشل مینجمنٹ آؤٹ سورس کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد کا گولڑہ ریلوے اسٹیشن، صدی پرانی ثقافت

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ریلوے کو ایک مقررہ اور کمٹڈ ریونیو حاصل ہو جیسا کہ پرائیویٹ پارٹنرز پہلے سے وعدہ کرتے ہیں۔

بابر رضا کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ادارہ خود ایک ٹرین چلاتا ہے تو سال کے آخر میں یہ نہیں پتا ہوتا کہ کتنا ریونیو آئے گا لیکن جب پرائیویٹ پارٹنر آتا ہے تو وہ بولی کے ذریعے پہلے ہی وعدہ کرتا ہے کہ ہم اتنے پیسے دیں گے اور وہ اکثر ریلوے کے سابقہ ریونیو سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ریلوے کے اثاثے فروخت یا نجکاری کرنے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ریلوے کے بنیادی اثاثے جیسے کہ زمین، اسٹیشن یا انجن فروخت نہیں کیے جا رہے بلکہ صرف سروسز کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے جس سے ریلوے کو بہتر مالی نظم و ضبط اور یقینی آمدن حاصل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں : کوئٹہ۔پشاور ٹرین آپریشن معطل، مسافر پریشان، ریلوے کو لاکھوں کا نقصان

 ایک طرف ٹرینوں کی نیلامی ہو رہی ہے اور دوسری طرف نئی ٹرینوں کے اعلان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک مکمل تجارتی حکمت عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو نیلامی یا آؤٹ سورسنگ کر رہے ہیں وہ بھی ریونیو جنریشن کے لیے ہے اور نئی ٹرینیں بھی اسی مقصد کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان ریلوے نے 3 ٹرینیں منسوخ کر دیں، مسافر پریشانی کا شکار

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں کم از کم ڈیڑھ گنا یا 2 گنا ریونیو مل رہا ہے تو یہ مکمل طور پر فائدے کا سودا ہوگا اور شفاف طریقے سے ریونیو ماڈل پر کام کرنے سے نہ صرف ریلوے کا خسارہ کم ہو سکتا ہے بلکہ عوام کو بھی بہتر سروسز مل سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ریلوے کے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش