ٹرمپ کا امن منصوبہ غزہ تباہی روکنے کی کوشش مگر متنازع؛ تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا نے غزہ جنگ بندی کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس نکات پر مشتمل قرار دیا ہے۔
اس منصوبے کو فلسطینی حلقوں سمیت دنیا بھر میں تحفظات کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں قابض اسرائیل کو مرکزی حیثیت دینے اور فلسطینی عوام کی خودمختاری کو نظر انداز کرنے کے نکات نمایاں ہیں۔
منصوبے کے مطابق حماس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے جبکہ اسرائیل صرف چند علاقوں سے فوج ہٹانے پر راضی ہوگا۔
اس فارمولے کے تحت غزہ میں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی جسے ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کہا گیا ہے۔ حیران کن طور پر اس حکومت کی سربراہی ٹرمپ خود کریں گے جبکہ اس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت غیر ملکی شخصیات کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ تجویز فلسطینی عوام کی خود مختاری پر براہِ راست وار سمجھی جا رہی ہے۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کے بدلے 250 عمر قید کے قیدیوں سمیت 1700 فلسطینیوں کو رہا کرے گا، تاہم یہ عمل اسرائیلی فوجی دباؤ کے ساتھ منسلک رہے گا کیونکہ فوجی کارروائیاں محض وقتی طور پر معطل ہوں گی اور انخلا مرحلہ وار ہوگا۔ اس دوران فلسطینی مزاحمتی قیادت کو عام معافی دینے یا محفوظ راستہ دینے کی شرط رکھی گئی ہے، جو دراصل اسرائیلی بیانیے کی توسیع ہے۔
غزہ میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی اور فلسطینی پولیس کی تربیت کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو مقامی آزادی کے بجائے بیرونی نگرانی کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ فلسطینی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل فلسطین کی داخلی سیاست اور مزاحمتی ڈھانچے کو توڑنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس میں فلسطینی عوام کی خواہشات اور ان کی جدوجہد آزادی کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔
اگرچہ منصوبے کو امن فارمولا کہا جا رہا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کے تحت اسرائیل کو تحفظ اور فلسطین کو نگرانی میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلسطینی عوام کے نزدیک اصل امن صرف اس وقت ممکن ہے جب قابض اسرائیل کا مکمل خاتمہ اور آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام گئی ہے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔