پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی کا سلسلہ جاری ہے، منگل کے روز کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار 166,000 کی سطح عبور کر گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریڈنگ کے دوران مثبت رجحان دیکھنے میں آیا اور انڈیکس ایک موقع پر 166,556 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

دوپہر 1 بج کر 20 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 166,030 پر موجود تھا، جو کہ 2,182 پوائنٹس یا 1.

33 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1542.34 points (+0.94%) at midday trading. Index is at 165,390.03 and volume so far is 249.73 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/MkZwzhczjm

— Investify Pakistan (@investifypk) September 30, 2025

کاروباری سیشن میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی۔

انڈیکس میں وزن رکھنے والے اسٹاکس جیسے اے آر ایل، حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایس این جی پی، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میبل اور یو بی ایل سبز زون میں رہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے پہلے جائزے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس نے پہلی مرتبہ 1 لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرلی

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں مالی کارکردگی، ریونیو کلیکشن، اخراجات میں نظم و ضبط اور اسٹرکچرل اصلاحات پر گفتگو ہوئی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو نیشنل فسکل پیکٹ، کیپیٹل مارکیٹ ریفارمز اور ترقیاتی اخراجات میں شفافیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے مطابق حالیہ سیلاب سے معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑا، جو مارکیٹ کے لیے حوصلہ افزا خبر ہے، بدھ کو جاری ہونے والے افراط زر کے اعدادوشمار سنگل ڈجٹ میں رہنے کی توقع ہے، جو 5.5 سے 6 فیصد کے درمیان ہو سکتا ہے۔

اسٹاک ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں جاری ریلی کی بڑی وجہ وافر لیکویڈیٹی ہے، جسے فنڈز اور ادارے ایکویٹیز میں لا رہے ہیں کیونکہ متبادل سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

انہوں نے کہا کہ معیشت کا مجموعی منظرنامہ مثبت ہے، شرح سود میں مزید کمی کی توقع ہے جبکہ بینکنگ، آئل اینڈ گیس اور فرٹیلائزر سیکٹرز کی کارکردگی بہتر ہے اور یہ سرمایہ کاروں کو پرکشش منافع دے رہے ہیں۔

دوسری جانب پیر کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھرپور خریداری ہوئی، کے ایس ای 100 انڈیکس 1,590 پوائنٹس اضافے کے بعد 163,847 پر بند ہوا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں ایشیائی حصص منگل کو معمولی اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوئے جبکہ سونا نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز آئل مارکیٹنگ کمپنیز آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاور جنریشن ریفائنری سیکٹر ریکارڈ کمرشل بینکس یو بی ایل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز ا ئی ایم ایف پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاور جنریشن ریکارڈ یو بی ایل اسٹاک ایکسچینج میں کے مطابق

پڑھیں:

پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر

دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔ اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔ نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔ ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ