ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ آج سے شروع، بھارت اور سری لنکا آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کرکٹ کے شائقین کے لیے خوش خبری ہے کہ 13واں آئی سی سی ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ آج سے شروع ہو رہا ہے۔
افتتاحی میچ بھارت اور سری لنکا کے درمیان گوہاٹی میں کھیلا جائے گا، جس میں دونوں ٹیمیں شاندار آغاز کے لیے پرعزم دکھائی دے رہی ہیں۔
ایونٹ میں دنیا کی آٹھ بہترین خواتین کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ ان میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، پاکستان، سری لنکا، بنگلا دیش اور میزبان بھارت شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ کو اس بار ہائبرڈ ماڈل کے تحت منظم کیا جا رہا ہے۔ اس فارمیٹ کے مطابق پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں کھیلے گی۔ قومی ٹیم اپنی مہم کا آغاز دو اکتوبر کو بنگلا دیش کے خلاف میچ سے کرے گی، جس پر مداحوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
پچھلے ورلڈ کپ میں پاکستان خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا تھا، اس لیے اس بار بہتر نتائج کی توقعات زیادہ ہیں۔
ٹورنامنٹ کے دوران سخت اور دلچسپ مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ شائقین خصوصاً پاکستان کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا قومی ٹیم مایوسیوں کا ازالہ کر پاتی ہے یا نہیں۔ ایونٹ کا فائنل چھبیس اکتوبر کو ہوگا جس میں دنیا کی دو بہترین ویمن ٹیمیں ٹائٹل جیتنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
یہ عالمی ایونٹ نہ صرف خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ شائقین کو بھی شاندار اور جاندار مقابلے دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ پاکستان سمیت سبھی ٹیمیں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گی تاکہ عالمی اعزاز اپنے نام کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔