ایشیا کپ رائیزنگ اسٹارز ٹی 20 ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہوں گے۔ اتوار کو ویسٹ اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں شام 5:30 بجے دونوں روایتی حریف اپنی ‘اے’ ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

بھارت اے نے ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ہی اپنی دھاک بٹھا دی۔ جمعے کو یو اے ای کے خلاف میچ میں بھارتی نوجوان اسٹار وہاب سوریہ ونشی نے صرف 42 گیندوں پر 144 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی، جس میں 11 چوکے اور 15 چھکے شامل تھے۔ ان کی دھواں دار بیٹنگ کی بدولت بھارت اے نے 148 رنز کے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز ٹورنامنٹ: بھارتی کھلاڑی کی دھواں دھار بیٹنگ، 144 رنز بنا لیے

سوریہ ونشی نے میچ کے بعد گفتگو میں کہا، یہ میرا فطری کھیل ہے۔ ٹی 20فارمیٹ میں میں اپنے اسٹائل کے مطابق کھیلنا چاہتا ہوں۔ پہلی گیند پر میری کیچ چھوڑا گیا، لیکن میں نے اپنی نیت اور انداز تبدیل نہیں کیا کیونکہ ہمیں بڑے اسکور کی ضرورت تھی۔ وکٹ اچھی تھی اور باؤنڈری بھی چھوٹی، اس لیے میں شاٹس کھیلتا رہا۔

دوسری جانب پاکستان اے نے بھی اچھا آغاز کیا اور جمعے کو گروپ بی کے میچ میں عمان کو 40 رنز سے شکست دی۔

یہ دونوں ملکوں کی مردوں کی ٹیموں کا آپس میں پہلا ٹاکرا ہوگا، جو ستمبر میں ہونے والے سینیئر ایشیا کپ کے بعد سامنے آئے گا۔ خواتین کی سینیئر ٹیمیں اسی ماہ سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آئی تھیں۔

ایشیا کپ رائیزنگ اسٹارز  جسے پہلے اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کہا جاتا تھا میں دونوں ممالک کی ٹیموں کی بھرپور تاریخ رہی ہے۔ 2013 سے اب تک بھارت کی انڈر 23 اور اے ٹیمیں پاکستان کے مقابلے میں 2-5 سے آگے ہیں۔ دونوں ٹیمیں دو مرتبہ فائنل میں ٹکرا چکی ہیں، جہاں 2013 میں بھارت نے سنگاپور میں نو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ 2023 میں پاکستان نے کولمبو میں 50 اوورز کے فائنل میں بھارت کو 128 رنز سے شکست دی۔

یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ ٹرافی تنازع، بھارت ماتھا ٹیکنے پر مجبور ہوگیا

اس سال سے ٹورنامنٹ ٹی 20فارمیٹ میں کھیلا جا رہا ہے، جس میں آئی سی سی کے فل ممبر ممالک کی اے ٹیمیں اور دیگر ممالک کی نمایاں ٹیمیں شامل ہیں۔

ادھر ہفتہ کو افغانستان اے نے ٹائٹل کے دفاع کا آغاز کرتے ہوئے سری لنکا اے کو سنسنی خیز مقابلے میں 3 وکٹوں سے شکست دی جبکہ بنگلادیش اے نے ہانگ کانگ کو آٹھ وکٹوں سے ہرا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان