کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں‘اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہش مند ہیں۔برطانوی دارالحکومت میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کر دی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ملک معاشی میدان میں بھی دنیا میں اپنی جگہ بنائے اور اقتصادی طاقت بن کر ابھرے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس پر کسی تیسرے ملک کو کوئی اعتراض نہیں۔ اس معاہدے کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے اسی نوعیت کے دفاعی تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ علاقائی امن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔