کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں‘اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہش مند ہیں۔برطانوی دارالحکومت میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کر دی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ملک معاشی میدان میں بھی دنیا میں اپنی جگہ بنائے اور اقتصادی طاقت بن کر ابھرے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس پر کسی تیسرے ملک کو کوئی اعتراض نہیں۔ اس معاہدے کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے اسی نوعیت کے دفاعی تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ علاقائی امن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔