ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 اور سعودی کرکٹ فیڈریشن کا اشتراک،خطے میں کرکٹ کے فروغ کے نئے دروازے کھل گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 30 September, 2025 سب نیوز

دبئی(آئی پی ایس) ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 (آئی ایل ٹی 20) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن (SACF) کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت سعودی کرکٹ فیڈریشن نے ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 کو باضابطہ طور پر سعودی عرب میں تسلیم کر لیا ہے۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں آنے والے سیزنز میں سعودی عرب میں بھی آئی ایل ٹی 20 کے میچز منعقد کیے جائیں گے۔اس معاہدے کے ذریعے سعودی کھلاڑیوں کے لیے ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 تک براہ راست رسائی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

خاص طور پر آئندہ سیزن 4 پلیئر آکشن میں ہر فرنچائز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کم از کم ایک سعودی کھلاڑی کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائے۔چیئرمین آئی ایل ٹی 20 خالد الزرعونی نے کہا کہ ہم سعودی کرکٹ فیڈریشن کے ساتھ شراکت داری پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سعودی عرب خلیجی خطے کا اہم ملک ہے اور کرکٹ کے فروغ کے لیے ان کا عزم متاثرکن ہے۔ یہ شراکت داری کھیل کو سرحدوں سے آگے لے جانے کے ہمارے وژن کی عکاس ہے۔

سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود نے کہا کہ ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 کے ساتھ تعاون ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم ملک میں کرکٹ کو فروغ دیں اور اپنے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی کے مواقع فراہم کریں۔ یہ شراکت نہ صرف کھیل کو فروغ دے گی بلکہ سعودی وژن 2030 کے تحت اسپورٹس، کمیونٹی انگیجمنٹ اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 کے سی ای او ڈیوڈ وائٹ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خلیجی خطے میں کرکٹ کے فروغ کے ہمارے وژن میں اہم سنگ میل ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح یو اے ای کے نوجوان کھلاڑی اس پلیٹ فارم سے عالمی معیار کے کوچنگ اور تجربے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح سعودی کھلاڑی بھی اب براہِ راست عالمی معیار کے مقابلوں کا حصہ بن سکیں گے۔یاد رہے کہ ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 کا سیزن 4، منگل 2 دسمبر 2025 سے شروع ہوگا اور چھ ٹیموں پر مشتمل 34 میچز کا یہ ایونٹ، اتوار 4 جنوری 2026 کو فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوئٹہ میں فورسز نے فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا، 6 دہشت گرد جہنم واصل پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیگز کیلئے کھلاڑیوں کے این او سی معطل کردئیے ایشیاکپ جیتنے والی بھارتی ٹیم پر نوٹوں کی برسات، کتنی رقم دی جائیگی؟ آپ پہلے کپتان ہیں جو کرکٹ میں سیاست لائے، پاکستانی صحافی کے سوال سوریا کمار بوکھلا گئے پاکستان ٹیم نے ایشیاکپ کے فائنل کی پوری فیس 7 مئی کو بھارتی حملے میں شہید ہونیوالوں کے نام کردی بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 5وکٹوں سے ہرا کر ایشیاکپ جیت لیا ایشیا کپ فائنل، پاکستان کے 147رنز کے تعاقب میں بھارت کی بیٹنگ جاری، 17اوورز میں117پر 4 آوٹ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈی پی ورلڈ ا ئی ایل ٹی 20 سعودی کرکٹ فیڈریشن کرکٹ کے فروغ کے میں کرکٹ

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے