ٹیسٹ کرکٹ میں اے ایف ایل کی طرز پر ٹیکٹیکل متبادل کا قانون متعارف کرائے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے پر نیا انقلاب دستک دینے لگا ہے۔
آئندہ برس سے ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلین کرکٹ لیگ کی طرز پر ٹیکٹیکل متبادل کا قانون متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
کسی بھی قسم کی انجری کا شکار پلیئر کے متبادل کی آزمائش شیفلڈ شیلڈ میں ہوگی۔ فاسٹ بولر کی جگہ فاسٹ بولر اور بیٹر کی جگہ بیٹر ہی متبادل کے طور پر شامل کیا جاسکے گا۔
حریف ٹیم کو بھی اس صورت میں دوسرے روز کے اختتام پر ایک کھلاڑی بدلنے کا اختیار ہوگا تاہم اس کے لیے بھی پہلی والی شرط عائد ہوگی۔
Cricket Australia will trial an injury replacement rule in the first five rounds of this season's Sheffield Shield competition https://t.
تجربہ کامیاب ہونے پر آئندہ برس اس کا ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اطلاق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ کرکٹ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔