کاشتکاروں کیلئے خوشخبری! گندم کی نئی سرکاری پالیسی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ کے گندم کاشتکاروں کے لیے خوشخبری ہے کہ صوبائی حکومت نے ان کی سہولت اور پیداوار بڑھانے کے لیے نئی اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم ریلیز پالیسی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں کسانوں کو مالی اور زرعی امداد فراہم کرنے کے لیے کئی فیصلے کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت 25 ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو خصوصی طور پر سپورٹ فراہم کرے گی۔ اس پالیسی کے تحت انہیں ایک بیگ ڈی اے پی اور دو بیگ یوریا دیے جائیں گے تاکہ بہتر اور وافر پیداوار حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی ہفتے گندم کی سپورٹ پرائس اور ریلیز پالیسی طے کی جائے گی تاکہ کسانوں کو بروقت سہولت میسر ہو اور نئی فصل اچھی لگ سکے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مارکیٹ میں گندم کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جائے کیونکہ جب گندم وافر ہوگی تو آٹا اور روٹی کی قیمت بھی مستحکم رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سندھ میں 12 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں جو ساڑھے چار ماہ تک کے لیے کافی ہیں اور اس دوران نئی فصل بھی مارکیٹ میں آ جائے گی۔
اجلاس میں وزیر خوراک نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ نجی شعبے کے پاس بھی 6 لاکھ ٹن گندم موجود ہے اور اوسطاً دو لاکھ ٹن گندم ہر ماہ مارکیٹ میں آ رہی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی سستی اور مناسب قیمت پر آٹا مل سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔