کابل میں انٹرنیٹ اور فلائٹ آپریشن بند، مسافر پریشانی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل میں حالات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کے بعد کابل کا مرکزی ایئرپورٹ بھی بند ہوگیا ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش نے نہ صرف اندرون اور بیرون ملک رابطے منقطع کر دیے ہیں بلکہ بینکنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر اہم خدمات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد روزمرہ کی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ایئرپورٹ کی صورتحال بھی اس فیصلے کے بعد غیر معمولی ہو گئی ہے۔ مسافروں کے مطابق کابل ایئرپورٹ تقریباً سنسان ہے اور وہاں پروازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رک چکی ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار 24 کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز کابل آنے اور جانے والی متعدد پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ کئی پروازوں کا اسٹیٹس ’نامعلوم‘ ظاہر کیا گیا۔
ایک مسافر کو ایئرپورٹ پر بتایا گیا کہ جمعرات سے پہلے کوئی پرواز ممکن نہیں، جبکہ دیگر مقامی افراد کے مطابق پیر کی شام سے ہی پروازیں بند کی جا چکی ہیں۔ اس صورتحال نے سفر کرنے والے افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی بندش پر باضابطہ وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیر سے نافذ ہوا ہے اور اگلے حکم تک برقرار رہے گا، تاہم اس غیر متوقع اقدام نے عوام میں بے چینی اور تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔