وزیراعظم کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی توثیق پرسیاسی و سماجی حلقوں کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251001-01-11
اسلام آباد /کراچی /لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک /اسٹاف رپورٹر /نمائندہ جسارت) وزیراعظم کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی توثیق پر سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید تنقید کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس میں جنگ بندی، یرغمالیوں کا تبادلہ، عسکریت پسندی کے خاتمے اور ایک عبوری حکومتی ڈھانچے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے 2 ریاستی حل پر زور دیا۔ وزیراعظم کے بیان پر ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، سیاستدانوں، ماہرین، صحافیوں اور کارکنوں نے اسے ’سرنڈر‘ قرار دیا۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت وزیرِاعظم کے بیان کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں واضح ہے کہ اگر کسی قوم کی زمین پر قبضہ ہو تو اسے مسلح جدوجہد کا حق حاصل ہے، اور کوئی طاقت اسے زبردستی اس حق سے محروم نہیں کر سکتی، 66 ہزار فلسطینی شہدا کی لاشوں پر قائم کسی نام نہاد امن منصوبے کی تعریف کرنا دراصل ظالموں کا ساتھ دینا ہے‘۔ مصنف اور سابق سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کی مکمل پسپائی ہے‘ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ایک سنگین غلطی ہوگی۔ مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر نے اس منصوبے کو ’ناقابلِ قبول اور فلسطینی عوام کے حقوق سے انکار‘ قرار دیا ۔ انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے کہا کہ صہیونیوں کے غلاموں اور ان کے آقاؤں کو پاکستانی عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔مصنفہ اور سماجی کارکن فاطمہ بھٹو نے کہا کہ پاکستانی عوام دو ریاستی سرنڈر کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ صحافی طلعت حسین نے کہا کہ حماس کو ختم کرنے کے بعد نیتن یاہو کو ’امن کا علمبردار‘ بنا کر پیش کیا جائے گا جبکہ ہزاروں فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔فعال رہنما عمار علی جان نے وزیرِاعظم کی پوسٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ’جب صہیونی ادارہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہو تو ’امن‘ کی بات کرنا شرمناک ہے۔ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے اسرائیل کو ’حرام ریاست‘ قرار دیا اور کہا کہ تاریخ اس غداری کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطین کے حق میں نہیں بلکہ ایک ’دھوکا‘ ہے۔تحفظِ آئین تحریک کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے بھی اسے مسلم ممالک کا ’سرنڈر‘ قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاہو نسل کشی کے باوجود صاف بچ نکلا۔تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر و سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور پاکستانی قوم ہم اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ ملکی عوام فلسطینی قوم کے ساتھ ہیں۔ سربراہ تحریکِ لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے مرکز سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو کبھی بھی فلسطین کے حقِ خود ارادیت اور مسلم مفادات کے خلاف کسی ایسی حکمتِ عملی یا معاہدے کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کا سودا کیا گیا ہو ۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو یکطرفہ، ناقابل عمل اور حماس کو اسرائیلی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا منصوبہ قرار دے دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ قرار دیا نہیں کر
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز