فلپائن میں 6.9 شدت کا زلزلہ، 20 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی، ہنگامی حالت نافذ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
MANILA:
فلپائن کے مرکزی صوبے سیبو شدید زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 37 سے زائد زخمی ہو گئے۔
زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.9 ریکارڈ کی گئی، جس نے متعدد عمارتوں کو منہدم کر دیا اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔
فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینالوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق زلزلہ رات 10 بجے کے قریب سیبو میں آیا، جو کہ 32 لاکھ سے زائد آبادی کا حامل صوبہ ہے۔ زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔
سیبو کی ترجمان اینجیلیز ڈی لا ٹوری اورونگ کے مطابق کم از کم 20 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 37 افراد زخمی ہیں، 4 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں اور 3 سرکاری دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گورنر پام بریکواترو نے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا حکم دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان روانہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی روانہ کی جا چکی ہے۔
مزید براں جنوبی کوتاباتو صوبے کی حکومت نے بھی سیبو کے لیے امدادی سامان اور طبی ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
سیبو کے شمالی قصبے سان ریمیگیو میں 5 ہلاکتیں ہوئیں مقامی پولیس افسر کیپٹن جان ایس لایوگ کے مطابق 4 افراد ایک اسپورٹس کمپلیکس میں باسکٹ بال کھیل رہے تھے کہ عمارت گر گئی۔
جاں بحق افراد میں فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار اور فلپائن کوسٹ گارڈ کے تین اہلکار شامل ہیں، پانچواں جاں بحق ہونے والا ایک بچہ تھا جو ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گیا۔
سان ریمیگیو کی مقامی حکومت نے "اسٹیٹ آف کلیمیٹی" (ہنگامی حالت) نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وسائل کو فوری طور پر متاثرین تک پہنچایا جا سکے۔
سیبو کے اسکولز اور سرکاری دفاتر بدھ کے روز بند کر دیے گئے ہیں تاکہ عمارتوں کا معائنہ کیا جا سکے۔
کئی گرجا گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آرچ ڈایوسیز آف سیبو نے تمام چرچز میں عبادات روکنے کی ہدایت دی ہے جب تک معائنہ مکمل نہ ہو۔
فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس، اپارٹمنٹس اور تاریخی عمارتوں کی تصاویر میں بھی شدید نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہیں اور مکمل نقصانات کا اندازہ دن کی روشنی میں لگایا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔