ایران بیرونی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور قوم آخری سانس تک اپنے ملک کے دفاع میں ثابت قدم رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، قطر سے یکجہتی کا اظہار
صدر پزشکیان نے منگل کے روز قومی فری اسٹائل اور گریکو-رومن ریسلنگ ٹیم کے ارکان، کوچز اور حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا لپ دنیا ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ہم ہتھیار ڈال دیں، لیکن ہمارے اندر ہتھیار ڈالنے کا تصور موجود نہیں۔
ہم ایران کے لیے اپنی زندگی کا آخری قطرہ تک قائم رہیں گے اور کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔
معاشی دباؤ اور خود انحصاری
صدر نے ایران پر عائد پابندیوں اور اقتصادی حدود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی خود شناسی اور ملکی وسائل پر اعتماد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں اور اپنے اہداف کے حصول میں عزم رکھیں، تو یقینی طور پر کامیاب ہوں گے۔
ملکی عزم اور محنت کی اپیل
پزشکیان نے ایرانی قوم کے سامنے موجود مشکلات تسلیم کیں لیکن پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی جاری کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
انہوں نے کہا کہ جو جذبہ اور عزم ریسلنگ ٹیم کے کھلاڑیوں میں ہے، اسی جذبے کو تمام قومی شعبوں میں بھی اپنانا چاہیے تاکہ ملک کی ترقی اور کامیابی ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایٹمی صلاحیت ایران ایرانی صدر مسعود پزشکیان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایٹمی صلاحیت ایران ایرانی صدر مسعود پزشکیان صدر مسعود پزشکیان
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔