اگر مجھے امن کا نوبل انعام نہ ملا تو یہ امریکہ کی توہین ہو گی: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اگر مجھے امن کا نوبل انعام نہ ملا تو یہ امریکہ کی توہین ہو گی: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کئی جنگی تنازعات حل کرنے کے لیے ان کے خود ساختہ کردار پر انہیں امن کا نوبل انعام نہ ملا تو یہ امریکہ کی “توہین” ہو گی۔
ٹرمپ نے ورجینیا کے کوانٹیکو میں اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “کیا آپ کو نوبل انعام ملے گا؟ بالکل نہیں۔ وہ یہ انعام کسی ایسے شخص کو دے دیں گے جس نے خاک بھی کچھ نہ کیا ہو۔ یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی۔”
ٹرمپ نے کہا، اگر حماس نے غزہ امن معاہدے کو قبول نہیں کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس معاہدے میں گروپ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
“ہمیں ایک دستخط کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس ہے اور اس ایک دستخط سے قیامت برپا ہو جائے گی اگر انہوں (حماس) نے دستخط نہیں کیے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنی بھلائی کے لیے دستخط کر دیں گے اور یہ واقعی زبردست ہو گا،” انہوں نے کہا۔
ٹرمپ نے یوکرین کی جنگ پر بھی بات کرتے ہوئے کہا، “روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو یہ تنازعہ حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔”
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت کا ناراض پیپلز پارٹی کو منانے کا فیصلہ وفاقی حکومت کا ناراض پیپلز پارٹی کو منانے کا فیصلہ پاکستان نے 500 ملین ڈالر کے یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی فلپائن میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 60سے زائد افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی، عمارتیں زمین بوس غزہ سے اسرائیلی انخلا واضح ہو، محض اصول کافی نہیں، قطری وزیراعظم حکومت کی آئی ایم ایف کو این ایف سی اجلاس بلانے کی یقین دہانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میرے بارے میں تعریف کسی اعزاز سے کم نہیں، ڈونلڈ ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔