اسرائیل نے غزہ سٹی پر حملے تیز کردیے، حماس ٹرمپ کے امن منصوبے پر غور میں مصروف
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر غور کررہی ہے، جبکہ اسرائیل نے غزہ سٹی پر حملے تیز کردیے ہیں۔
منگل کے روز صدر ٹرمپ نے حماس کو کہا تھا کہ وہ اس منصوبے پر 3 یا 4 دن کے اندر جواب دے، جسے انہوں نے اس ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر پیش کیا تھا۔ نیتن یاہو نے اس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروہ کے درمیان قریباً 2 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عرب اسلامی ہنگامی اجلاس: ’گریٹر اسرائیل‘ کا منصوبہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جارہا ہے: امیر قطر
ایک فلسطینی اہلکار جو حماس کی دیگر دھڑوں کے ساتھ مشاورت سے واقف ہے، نے رائٹرز کو بتایا کہ منصوبے کو قبول کرنا تباہی ہے، اور اسے رد کرنا بھی ایک اور تباہی، یہاں صرف کڑوی گولیاں ہی ہیں، لیکن یہ منصوبہ نیتن یاہو کا ہے جسے ٹرمپ نے زبان دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حماس جنگ کے خاتمے اور نسل کشی کو روکنے کے لیے پرعزم ہے، اور وہ ایسے انداز میں جواب دے گی جو فلسطینی عوام کے اعلیٰ مفادات کا تحفظ کرے گا، تاہم انہوں نے تفصیل نہیں بتائی۔
اسرائیلی بمباری جاری، شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیادوسری جانب اسرائیلی فوج نے لوگوں کو جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اب شمال کی طرف واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ غزہ سٹی شدید بمباری کی زد میں ہے۔
غزہ کے مقامی صحت حکام کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غزہ سٹی سے تھا۔ رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں اور ٹینکوں نے رات بھر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
شمال مغربی غزہ سٹی کے قدیمی علاقے میں ایک حملے میں 7 افراد مارے گئے، جبکہ شہر کے ایک اور علاقے میں اسکول میں پناہ لینے والے 6 افراد ایک علیحدہ حملے میں شہید ہوئے۔
ایک نئے اقدام کے تحت اسرائیلی فوج نے بدھ سے ساحلی سڑک کے ذریعے جنوب سے شمال کی طرف جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم یہ راستہ جنوبی سمت جانے والوں کے لیے کھلا رہے گا۔
غزہ سے لوگوں کی مستقل بے دخلی کے خدشات مزید گہرے ہوگئےگزشتہ ہفتوں میں فوج کی جانب سے غزہ سٹی کے محاصرے میں شدت آنے کے باعث جنوب سے شمال کی طرف جانے والوں کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ تاہم آج کے فیصلے سے ان لوگوں پر دباؤ بڑھے گا جو ابھی تک غزہ سٹی میں موجود ہیں، اور ساتھ ہی ان لاکھوں افراد کی واپسی رک جائے گی جو پہلے ہی جنوب کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں، جس سے غزہ میں مستقل بے دخلی کے خدشات مزید گہرے ہو جائیں گے۔
یہ اقدام جنوبی علاقوں سے شمال میں اشیائے خورونوش کی منتقلی کو بھی روک دے گا، جس سے غزہ سٹی میں خوراک کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ایسا ہی ایک قدم جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بھی اٹھایا گیا تھا، جب شمال اور جنوب کو مکمل طور پر الگ کر دیا گیا تھا، جسے بعد میں جنوری میں ایک عارضی جنگ بندی کے دوران کچھ نرمی دی گئی تھی۔
ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کا تاحال کوئی ردعمل سامنے نہ آیاحماس نے تاحال ٹرمپ کے منصوبے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جس میں عسکری گروہ سے باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی، ہتھیار ڈالنے، اور مستقبل میں غزہ کے نظم و نسق میں کوئی کردار نہ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بالآخر غزہ سے انخلا کرے گا، لیکن اس کے لیے کوئی وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔ حماس طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کو مکمل طور پر غزہ سے نکلنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ
غزہ میں موجود تین چھوٹے عسکری فلسطینی گروہوں نے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، جن میں سے دو حماس کے اتحادی بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز فلسطینی مقصد کو تباہ کر دے گی اور اسرائیل کے غزہ پر قبضے کو بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت دے گی۔
متعدد عالمی رہنما ٹرمپ کے منصوبے کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔ منگل کو ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے مفادات کی طرف بہت زیادہ جھکا ہوا ہے اور حماس کے اہم مطالبات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل امن منصوبہ جنگ بندی حماس غزہ سٹی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل غزہ سٹی وی نیوز ٹرمپ کے غزہ سٹی کے لیے کی طرف
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ