Nawaiwaqt:
2026-06-03@06:48:54 GMT

ملیر: زلزلے کے جھٹکے، شہری گھروں سے باہر نکل آئے

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

ملیر: زلزلے کے جھٹکے، شہری گھروں سے باہر نکل آئے

کراچی کے علاقے ملیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ خوف زدہ ہوکر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں صبح 9 بج کر 34 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز ملیر کے شمال مغرب میں 7 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔اس موقع پر لوگ گھروں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔ زلزلے کے باعث کسی جانی یا دیگر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یاد رہے کہ کراچی میں یکم جون 2025 سے کم شدت کے زلزلے کے 57 جھٹکے ریکارڈ کیے گئے.

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق زلزلے ریکٹر اسکیل پر 1.5 سے 3.8 کے درمیان تھے. جس کی وجہ لانڈھی فالٹ لائن کا فعال ہونا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق یہ غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد (فریکوئنسی) خطے کے فالٹ سسٹم کے اندر ٹیکٹونک تناؤ کے قدرتی اخراج کی عکاسی کرتی ہے۔پی ایم ڈی کے حکام نے بتایا تھا کہ زلزلے کے فعال علاقوں میں یہ جھٹکے معمولی اور عام ہیں. ان میں سے زیادہ تر واقعات اتھلی گہرائیوں (70 کلومیٹر تک) میں پیش آئے ہیں. جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں نے انہیں ہلکا محسوس کیا۔یہ زلزلے خطے میں مقامی فالٹ سسٹم کے ساتھ قدرتی ٹیکٹونک حرکت کا نتیجہ ہیں. کراچی ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم کے قریب واقع ہے.جہاں چھوٹے پیمانے پر دباؤ کا جمع ہونا کبھی کبھار اس طرح کے معمولی زلزلے کے اخراج کا باعث بن سکتا ہے۔یہ ٹیکٹونی طور پر فعال علاقوں میں عام ارضیاتی مظاہر سمجھے جاتے ہیں اور آنے والے بڑے زلزلے کی نشاندہی نہیں کرتے، مقامی حالات بشمول نرم مٹی، زمین کی بحالی، اور غیر منظم زیر زمین پانی نکالنا، اس بات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ سطح پر ہلچل کیسے محسوس کی جاتی ہے۔پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ عوام کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھبرائیں نہیں، یہ جھٹکے غیر معمولی نہیں ہیں اور خوف کا باعث نہیں ہونا چاہیے. ہمارا مشورہ ہے کہ شہری صرف سرکاری چینلز کے ذریعے ہی باخبر رہیں، اور غیر تصدیق شدہ خبروں یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں جو غیر ضروری خطرے کی گھنٹی کا سبب بن سکتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: زلزلے کے محسوس کی

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے