ملیر: زلزلے کے جھٹکے، شہری گھروں سے باہر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
کراچی کے علاقے ملیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ خوف زدہ ہوکر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں صبح 9 بج کر 34 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز ملیر کے شمال مغرب میں 7 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔اس موقع پر لوگ گھروں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔ زلزلے کے باعث کسی جانی یا دیگر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ کراچی میں یکم جون 2025 سے کم شدت کے زلزلے کے 57 جھٹکے ریکارڈ کیے گئے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک