لکھائی پڑھنے کے قابل ہونی چاہیے، عدالت نے ڈاکٹرز کو ہدایت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی میں ایک دلچسپ حکم سامنے آیا ہے جہاں بھارتی عدالت نے ڈاکٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ہینڈ رائٹنگ بہتر کریں تاکہ طبی نسخے اور رپورٹس سب کے لیے قابلِ فہم ہوں۔ یہ حکم پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران دیا۔
رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون کی جانب سے ایک شخص پر جنسی زیادتی، دھوکا دہی اور جعل سازی کے الزامات لگائے گئے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں سرکاری ڈاکٹر کی تیار کردہ میڈیکو لیگل رپورٹ پیش کی گئی جو اس قدر ناقابلِ فہم تھی کہ جج اسے پڑھ ہی نہ سکے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے لیے یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ سرکاری رپورٹ کا ایک لفظ بھی پڑھنے کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر ہر جگہ موجود ہیں، یہ بات افسوسناک ہے کہ سرکاری ڈاکٹرز اب بھی ہاتھ سے ایسی تحریریں لکھتے ہیں جنہیں صرف چند کیمسٹ ہی سمجھ پاتے ہیں۔
عدالت نے اس موقع پر حکومت کو ہدایت دی کہ میڈیکل کالجوں کے نصاب میں خوشخطی کی باقاعدہ تربیت شامل کی جائے اور ساتھ ہی آئندہ دو برس کے اندر نسخے لکھنے کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں اور اداروں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔