آج عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکار شہید ہوئے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے کہ آج عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے دوران 3 پولیس اہلکار شہید اور 150 افراد زخمی ہوئے، تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تشدد سے کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی سے ہمارے 12 گھنٹے مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں ہم نے ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات تسلیم کرلیے، ہم وفاقی وزراء ضامن تھے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد ہوگا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو مقدمات بنائے گئے تھے ان کی واپسی کا مطالبہ تسلیم کیا گیا، بجلی کے حوالے سے کچھ ایشوز تھے وہ بھی ہم نے مانے، ایکشن کمیٹی کی تسلی کے لیے ہم نے ان کے مطالبات مانے، دو ایسے مطالبات تھے جس کے لیے آزاد کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔
انہوں نے کہا کہ مطالبہ تھا کہ پاکستان میں مہاجرین کی قانون ساز اسمبلی کی نشستیں ختم کی جائیں، آزاد کشمیر میں اس احتجاج کی ضرورت نہیں تھی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایکشن کمیٹی احتجاج کو بند گلی میں لے آئی ہے، آزاد کشمیر میں احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ معاملے کا حل ہے، ایکشن کمیٹی کے ارکان بیٹھیں ہم تیار ہیں بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کریں، ہم کسی صورت میں آزاد کشمیر میں کوئی تشدد نہیں چاہتے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا دشمن اس تشدد سے فائدہ اٹھائے۔
اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دوبارہ دہرائی ہے، ہم دو مطالبات پر بھی کھلے دل سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اب بھی گزارش ہے کہ 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں تو باقی پر بھی بات کریں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمارے پولیس کے تین جوان شہید ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری ایکشن کمیٹی کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔