وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے کہ آج عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے دوران 3 پولیس اہلکار شہید اور 150 افراد زخمی ہوئے، تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تشدد سے کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی سے ہمارے 12 گھنٹے مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں ہم نے ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات تسلیم کرلیے، ہم وفاقی وزراء ضامن تھے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد ہوگا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو مقدمات بنائے گئے تھے ان کی واپسی کا مطالبہ تسلیم کیا گیا، بجلی کے حوالے سے کچھ ایشوز تھے وہ بھی ہم نے مانے، ایکشن کمیٹی کی تسلی کے لیے ہم نے ان کے مطالبات مانے، دو ایسے مطالبات تھے جس کے لیے آزاد کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔

انہوں نے کہا کہ  مطالبہ تھا کہ پاکستان میں مہاجرین کی قانون ساز اسمبلی کی نشستیں ختم کی جائیں، آزاد کشمیر میں اس احتجاج کی ضرورت نہیں تھی۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایکشن کمیٹی احتجاج کو بند گلی میں لے آئی ہے،  آزاد کشمیر میں احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ معاملے کا حل ہے، ایکشن کمیٹی کے ارکان بیٹھیں ہم تیار ہیں بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کریں، ہم کسی صورت میں آزاد کشمیر میں کوئی تشدد نہیں چاہتے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا دشمن اس تشدد سے فائدہ اٹھائے۔

اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دوبارہ دہرائی ہے، ہم دو مطالبات پر بھی کھلے دل سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اب بھی گزارش ہے کہ 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں تو  باقی پر بھی بات کریں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمارے پولیس کے تین جوان شہید ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری ایکشن کمیٹی کے نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف