آزاد کشمیر میں احتجاج، تین پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفر آباد:۔ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران بدھ کو پرتشدد واقعات میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔احتجاج کے باعث ریاست بھر میں نظام زندگی درہم برہم ہے، بدھ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین میں کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دھیر کوٹ میں اے ایس آئی سمےت تےن پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ ادھر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران مظفر آباد میں دو، دھیر کوٹ میں دو اور ڈڈیال میں ایک عام شہری جاں بحق ہوگیا، کئی افراد زخمی ہیں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھنے کا ا مکان ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مظاہرین نے ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کی جانب مارچ کا آغاز کردیا ہے۔ پونچھ اور میرپور ڈویژن کے علاوہ مظفرآباد کے دیگر اضلاع سے بھی احتجاجی مظاہرین ریاستی دارالحکومت کی جانب مارچ کررہے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر حکومت آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی ، تاہم فریقین کے درمیان ابھی تک کسی بات چیت کا آغاز نہیں ہوا۔
عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ہڑتال پر ہے، جس کا آغاز 29 ستمبر کو ہوا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں 2 اہم مطالبات آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کا خاتمہ اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی ہے۔کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر امور کشمیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری نے مظفرآباد جا کر ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے تھے جو کامیاب نہ ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔