وزیراعظم آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کو پھر مذاکرات کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد : وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا مگر صورت حال مختلف ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل افراد نے پُرتشدد مظاہرے اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس میں 3اہلکار شہید جبکہ 10 زخمی ہوئے ہیں۔
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں مختلف علاقوں سے آئے لوگ شامل ہیں، اگر یہ صرف کشمیر کے لوگ ہوتے تو شاید احتجاج اس طرح نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمے داران کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، آئیں اور بات چیت کریں، حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اس سے قبل ستمبر عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات تسلیم کرلیے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے احتجاج کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔