توہین مذہب کیس: سرکاری گواہ پیش نہیں ہو رہے‘ رویہ ناقابل برداشت: جسٹس محسن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں ڈیڑھ سال سے گرفتار ملزم حسن عابد کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو ہدایت دی ہے کہ 8 اکتوبر کو تمام گواہان کو ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ اسی روز وکلاء کی جانب سے گواہان پر جرح بھی مکمل کی جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کے دوران ممبر انسپکشن ٹیم (ایم آئی ٹی) کو ٹرائل کورٹ کا دورہ کرنے اور یہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی کہ عدالتیں مقدمات میں تاخیر کیوں کر رہی ہیں۔ ایم آئی ٹی کمیٹی کو دونوں ٹرائل کورٹس کے دورے کر کے تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ عدالت نے وکیلِ دفاع کو پرانے عدالتی فیصلے ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے پر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام وکیل کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سرکاری گواہان عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہو رہے اور اس رویے کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے تفتیشی افسر مدثر شاہ کا تبادلہ پشاور ہو چکا ہے۔ جس پر عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر کو بھی 8 اکتوبر کو ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کیس روزانہ کی بنیاد پر سن کر ایک مثال بنایا جائے گا۔ عدالت نے سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔