سستی بجلی، کوٹو پن بجلی منصوبے کی کامیاب تکمیل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں لوئر دیر میں 40.8 میگاواٹ کوٹو پن بجلی منصوبہ کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔
بجلی فروخت کے سلسلے میں پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور پیسکو کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے، محکمہ توانائی کے مطابق کوٹو پن بجلی منصوبے سے سالانہ 207 گیگا واٹ آور سستی بجلی پیدا ہو گی۔
محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ منصوبے سے صوبے کو سالانہ 2 ارب روپے کی آمدن ہو گی، نیشنل گرڈ میں بجلی فراہمی بجلی بحران کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے
اس سلسلے میں وفاقی توانائی کے ادارے پشاورالیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) اورصوبائی محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو)کے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے لئے Power Acquision Contractپر دستخط کے حوالے سے واپڈاہاؤس پشاورمیں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔
اس تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی،سابق صوبائی وزیر و چیئرمین پیسکو بورڈ حمایت اللہ خان، سیکرٹری توانائی و برقیات زبیرخان، چیف ایگزیکٹو پیسکو اخترحمید، چیف انجینئر پیڈو عزیز باچا، ڈائریکٹرجنرل Mirad عاطف جواد نے شرکت کی۔
ویمن گرین شرٹس آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ ٹرافی گھر لانے کیلئے پہلا قدم کل بڑھائیں گی
اس موقع پر معاون خصوصی توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے کوٹوپن بجلی منصوبے کی تکمیل کوصوبے کی معیشت کے استحکام کی طرف ایک تاریخی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے سے ایک طرف ماحول دوست سستی بجلی پیدا ہو گی تو دوسری طرف نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی سے درپیش بجلی کے بحران پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بجلی منصوبے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔