عظمیٰ بخاری کا شرمیلا فاروقی کے بیان پر ان کو مناظرے کا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
---فائل فوٹوز
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کی جانب سے وزیرِاعلیٰ پنجاب کو چیلنج کرنے پر اِنہیں مناظرے کا چیلنج دے دیا۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں 17 سال سے حکومت ہے، آپ 17 سال میں 17 عوامی فلاح کے منصوبے نہیں گنوا سکتے، مریم نواز کی پنجاب میں حکومت کو ابھی 2 سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتنے کم عرصے میں مریم نواز نے 90 منصوبے شروع کیے جن میں 50 مکمل ہوچکے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے شرمیلا فاروقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ مناظرے کے لیے بالکل تیار ہوں آجائیں، آجائیں پرفارمنس کا مقابلہ کرتے ہیں، یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں ایسی ترقی ہو رہی جو نظر نہیں آرہی، آجائیں وہ قوم کو دکھائیں۔ اگر 17 سال کی حکومت والوں کو پنجاب سے موازنے کا شوق ہے تو شوق سے مناظرہ کر لیں۔
اِن کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ خود لاہور کی سڑکوں اور صفائی کی تعریفیں کرتے ہیں، جس کی آپ کو پریشانی ہوتی۔
مریم نواز نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لوگوں کی عزت نفس کی بات کی، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی
عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی کو آپ کیوں زبردستی پنجاب کے سیلاب متاثرین پر مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ مریم نواز پنجاب کے سیلاب متاثرین کو 10، 10 لاکھ کے امدادی چیک دینے جا رہی ہیں، آپ بی آئی ایس پی کے ذریعے سندھ کے سیلاب متاثرین کو 10، 10 ہزار دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شرمیلا فاروقی نے آج صبح ’جیوپاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ایک صوبے کاچیف ایگزیکٹو یہ کہے گا کہ میرا پیسہ، میرا پانی، انگلی توڑ دیں گے، یہ بدقسمتی ہے۔
شرمیلا فاروق نے کہا کہ وہ چیلنج کرتی ہیں سندھ اور پنجاب کی کارکردگی کا موازنہ کر لیں کہ سندھ میں صحت کا نظام کیا ہے اور پنجاب میں کیا ہے، سندھ سیلاب زدگان کے لیے کیا کر رہا ہے اور پنجاب کیا کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرمیلا فاروقی مریم نواز کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔