پاکستان میں آپریشنز بند، معروف کمپنی نے بڑا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: پاکستان میں کاروباری حلقوں کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے ملک میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا باضابطہ فیصلہ کرلیا ہے اور اس بارے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جلیٹ پاکستان لمیٹڈ نے اسٹاک ایکسچینج کو جمعرات کے روز بتایا کہ The Gillette Company LLC نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو باضابطہ نوٹس بھیجتے ہوئے پی اینڈ جی کے اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام پروکٹر اینڈ گیمبل کے عالمی ری اسٹرکچرنگ پروگرام کا حصہ ہے جس میں پورٹ فولیو، سپلائی چین اور تنظیمی حکمت عملی میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ترقی کی رفتار تیز ہو اور بزنس ویلیو میں اضافہ ہوسکے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل ملک کی معیشت کے لیے مسلسل نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اپریل 2022 کے بعد سے پاکستان سب سے زیادہ مشکل دور سے گزر رہا ہے جس میں کئی بڑی اور پرانی عالمی کمپنیاں ملک چھوڑ چکی ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ غیر یقینی حالات نے نہ صرف صنعتی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف جنوری 2025 سے اب تک 248 ملین ڈالرز سے زائد کا سرمایہ غیر ملکی سرمایہ کار نکال چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے واضح، شفاف اور دیرپا پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور آئندہ کسی عالمی کمپنی کو ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین